ہدیۂ نعت بحضور سرور کائناتﷺ
کہاں وہ پیکر نوری کہاں یہ ذرۂ خاک
زہے نصیب، کہ ہاتھ آ گیا ہے دامنِ پاک
مقام آپﷺ کا مخلوق پر کھلا ہی نہیں
احاطہ کیسے کرے جن و انس کا ادراک
جبینِ عرش تِرے نقشِ پا کی ہے ممنون
وہ ناسمجھ ہیں جو خود سا سمجھتے ہیں ان کو
کہاں گلاب چنیدہ، کہاں خس و خاشاک
خدا نے صدقۂ نعلین میں دیا ہے مجھے
عطائے خلق نہیں ہے یہ طرۂ پیچاک
سید انصر
No comments:
Post a Comment