Wednesday, 14 December 2016

کہاں وہ پیکر نوری کہاں یہ ذرہ خاک

ہدیۂ نعت بحضور سرور کائناتﷺ

کہاں وہ پیکر نوری کہاں یہ ذرۂ خاک
زہے نصیب، کہ ہاتھ آ گیا ہے دامنِ پاک
مقام آپﷺ کا مخلوق پر کھلا ہی نہیں
احاطہ کیسے کرے جن و انس کا ادراک
جبینِ عرش تِرے نقشِ پا کی ہے ممنون
تِرے وجود کا احسان مند عالمِ خاک
وہ ناسمجھ ہیں جو خود سا سمجھتے ہیں ان کو
کہاں گلاب چنیدہ، کہاں خس و خاشاک
خدا نے صدقۂ نعلین میں دیا ہے مجھے
عطائے خلق نہیں ہے یہ طرۂ پیچاک

سید انصر

No comments:

Post a Comment