Showing posts with label آغا نثار. Show all posts
Showing posts with label آغا نثار. Show all posts

Wednesday, 28 September 2022

فکر دیوار و در نہیں کرتا

 فکرِ دیوار و در نہیں کرتا

اب میں تعمیر گھر نہیں کرتا

ربط سب ریت کے گھروندے ہیں

کوئی اب دل میں گھر نہیں کرتا

مور بھی داس ہے اداسی کا

رقص پر کھول کر نہیں کرتا

Tuesday, 13 September 2022

مات دینے کا ارادہ کر لیا

 مات دینے کا ارادہ کر لیا

شاہ کے آگے پیادہ کر لیا

ایک لقمہ اور دو خالی شکم

سو اسی کو آدھا آدھا کرلیا

آج دریا کی روانی دیکھ کر

پار جانے کا ارادہ کر لیا

Sunday, 11 September 2022

میری تنہائی کا چرچا ہونا

 میری تنہائی کا چرچا ہونا

شامِ خوشرنگ کا پیلا ہونا

تم جو لاکھوں میں گھِرے بیٹھے ہو

اس کا مطلب تو ہے تنہا ہونا

دلِ کم بخت کو آتا ہی نہیں

کبھی اِس کا، کبھی اُس کا ہونا

Thursday, 22 April 2021

جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا

 جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا

سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا

کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے

جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا

توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو

جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا

Wednesday, 21 April 2021

یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

 یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں

وہ ایک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود

وہ رنگ، ہم تِرے خاکے میں بھرنے آئے ہیں

ٹھِٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر

ہم اپنی سطح سے نیچے اُترنے آئے ہیں