فکرِ دیوار و در نہیں کرتا
اب میں تعمیر گھر نہیں کرتا
ربط سب ریت کے گھروندے ہیں
کوئی اب دل میں گھر نہیں کرتا
مور بھی داس ہے اداسی کا
رقص پر کھول کر نہیں کرتا
فکرِ دیوار و در نہیں کرتا
اب میں تعمیر گھر نہیں کرتا
ربط سب ریت کے گھروندے ہیں
کوئی اب دل میں گھر نہیں کرتا
مور بھی داس ہے اداسی کا
رقص پر کھول کر نہیں کرتا
مات دینے کا ارادہ کر لیا
شاہ کے آگے پیادہ کر لیا
ایک لقمہ اور دو خالی شکم
سو اسی کو آدھا آدھا کرلیا
آج دریا کی روانی دیکھ کر
پار جانے کا ارادہ کر لیا
میری تنہائی کا چرچا ہونا
شامِ خوشرنگ کا پیلا ہونا
تم جو لاکھوں میں گھِرے بیٹھے ہو
اس کا مطلب تو ہے تنہا ہونا
دلِ کم بخت کو آتا ہی نہیں
کبھی اِس کا، کبھی اُس کا ہونا
جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا
سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا
کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے
جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا
توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو
جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا
یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں
ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں
وہ ایک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود
وہ رنگ، ہم تِرے خاکے میں بھرنے آئے ہیں
ٹھِٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر
ہم اپنی سطح سے نیچے اُترنے آئے ہیں