Thursday, 22 April 2021

جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا

 جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا

سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا

کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے

جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا

توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو

جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا

نیزے میں میرا جسم پِرونے کے واسطے

مجھ کو فلک کے سمت اُچھالا دیا گیا

دیمک زدہ زبانیں، ہوس کے اسیر لوگ

مجھ کو تو عہدِ فن بھی نرالا دیا گیا

شاید میں شہر کا نہیں جنگل کا ہوں مکین

تلوار دی گئی ہے بھالا دیا گیا ہے

صحرا تمہاری آنکھ میں کیوں نقش ہو گیا

تم کو تو شہر چاہنے والا دیا گیا

اک دُکھ کی پروریش کے لیے عمر بھر نثار

ایندھن بدن کا، خون کا نوالا دیا گیا


آغا نثار

No comments:

Post a Comment