Thursday, 22 April 2021

دل جہاں ہے اگر وہاں نہ رہے

دل جہاں ہے اگر وہاں نہ رہے

پھر نہ جانے کہاں کہاں نہ رہے

گھر رہے اور سائباں نہ رہے

ایسا ہوتا تو ہے جو ماں نہ رہے

لوٹ جانے کو جی نہیں چاہے

دنیا ایسی تو میزباں نہ رہے

ہم بھی جب مہرباں کسی پہ نہیں

کوئی بھی ہم پہ مہرباں نہ رہے

فاصلہ ہی بڑھا لیا اتنا

کیسے اب کوئی درمیاں نہ رہے

کون پُرسانِ حال ہے اپنا

دل کو اُمیدِ رائیگاں نہ رہے

غیر کے سائباں میں جائے گا

اپنے گھر میں اگر اماں نہ رہے

بات جب ہے صبا ہو اوجِ کمال

چوٹ دیں یوں ذرا نشاں نہ رہے


سید صبا واسطی

سید صباحت حسین واسطی

No comments:

Post a Comment