دل جہاں ہے اگر وہاں نہ رہے
پھر نہ جانے کہاں کہاں نہ رہے
گھر رہے اور سائباں نہ رہے
ایسا ہوتا تو ہے جو ماں نہ رہے
لوٹ جانے کو جی نہیں چاہے
دنیا ایسی تو میزباں نہ رہے
ہم بھی جب مہرباں کسی پہ نہیں
کوئی بھی ہم پہ مہرباں نہ رہے
فاصلہ ہی بڑھا لیا اتنا
کیسے اب کوئی درمیاں نہ رہے
کون پُرسانِ حال ہے اپنا
دل کو اُمیدِ رائیگاں نہ رہے
غیر کے سائباں میں جائے گا
اپنے گھر میں اگر اماں نہ رہے
بات جب ہے صبا ہو اوجِ کمال
چوٹ دیں یوں ذرا نشاں نہ رہے
سید صبا واسطی
سید صباحت حسین واسطی
No comments:
Post a Comment