تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ
بے سبب ہے مِرا گِلہ شکوہ
شکر ان کے لبوں پہ کب آیا
جن کا شیوہ رہا سدا شکوہ
بے وفائی کا دے دیا طعنہ
اور کیا مجھ سے کر سکا شکوہ
تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ
بے سبب ہے مِرا گِلہ شکوہ
شکر ان کے لبوں پہ کب آیا
جن کا شیوہ رہا سدا شکوہ
بے وفائی کا دے دیا طعنہ
اور کیا مجھ سے کر سکا شکوہ
انہیں الفت نہیں ہم سے ہمیں نفرت نہیں اُن سے
جہاں ملتے ہیں وہ ہم شکوہ کرتے ہیں وہیں ان سے
تمہارے نام کے جو پھول کھلتے ہیں گلستاں میں
ملے فرصت تو ہم اپنی سجاتے ہیں جبیں اُن سے
سرِ محفل کرن جس روز وہ جلوہ نما ہوں گے
جتائیں گے محبت دیکھنا کتنے حسیں ان سے
پھر اس کے بعد چاہے جو سزا بھی دی جاتی
مگر یہ دکھ ہے مِری بات تو سنی جاتی
غمِ فراق میں جینا ہوا ہے نا ممکن
کہ مجھ سے اور اذیت نہیں سہی جاتی
وہ مان جاتا، وہ شاید کہ لوٹ بھی آتا
میں اس کے ساتھ اگر گیٹ تک چلی جاتی
پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا
وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا
دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا
ہر کسی کو نوازتا ہے دل
عشق دریوزہ گر نہیں ہوتا
ہزاروں چہرے ہوئے رہِ حیات میں گم
مگر یہ لوگ یہاں پھر بھی تجربات میں گم
مِرا یہ وہم ہے جو میں دکھائی دیتی ہوں
مِری تو ذات ہوئی کسی کی ذات میں گم
مِرے نصیب نے یوں مجھ سے پھیر لی آنکھیں
کہ جیسے چاند ہو جا کے سیاہ رات میں گم
رات بھر انتظار کرتی رہی
میں ستارے شمار کرتی رہی
یاد آتی رہی تیری ہر پل
اور مجھے بےقرار کرتی رہی
میں وہ لڑکی ہوں جو محبت میں
سارے جذبے نثار کرتی رہی