Showing posts with label کرن وقار. Show all posts
Showing posts with label کرن وقار. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ

 تم سمجھتے نہیں تو کیا شکوہ

بے سبب ہے مِرا گِلہ شکوہ

شکر ان کے لبوں پہ کب آیا

جن کا شیوہ رہا سدا شکوہ

بے وفائی کا دے دیا طعنہ

اور کیا مجھ سے کر سکا شکوہ

Thursday, 15 April 2021

انہیں الفت نہیں ہم سے ہمیں نفرت نہیں ان سے

 انہیں الفت نہیں ہم سے ہمیں نفرت نہیں اُن سے

جہاں ملتے ہیں وہ ہم شکوہ کرتے ہیں وہیں ان سے

تمہارے نام کے جو پھول کھلتے ہیں گلستاں میں

ملے فرصت تو ہم اپنی سجاتے ہیں جبیں اُن سے

سرِ محفل کرن جس روز وہ جلوہ نما ہوں گے

جتائیں گے محبت دیکھنا کتنے حسیں ان سے

Tuesday, 13 April 2021

پھر اس کے بعد چاہے جو سزا بھی دی جاتی

 پھر اس کے بعد چاہے جو سزا بھی دی جاتی

مگر یہ دکھ ہے مِری بات تو سنی جاتی

غمِ فراق میں جینا ہوا ہے نا ممکن

کہ مجھ سے اور اذیت نہیں سہی جاتی

وہ مان جاتا، وہ شاید کہ لوٹ بھی آتا

میں اس کے ساتھ اگر گیٹ تک چلی جاتی

Sunday, 11 April 2021

پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

 پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا

وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا 

دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے

بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا 

ہر کسی کو نوازتا ہے دل

عشق دریوزہ گر نہیں ہوتا

ہزاروں چہرے ہوئے رہ حیات میں گم

 ہزاروں چہرے ہوئے رہِ حیات میں گم

مگر یہ لوگ یہاں پھر بھی تجربات میں گم

مِرا یہ وہم ہے جو میں دکھائی دیتی ہوں

مِری تو ذات ہوئی کسی کی ذات میں گم

مِرے نصیب نے یوں مجھ سے پھیر لی آنکھیں

کہ جیسے چاند ہو جا کے سیاہ رات میں گم

رات بھر انتظار کرتی رہی

 رات بھر انتظار کرتی رہی 

میں ستارے شمار کرتی رہی 

یاد آتی رہی تیری ہر پل 

اور مجھے بےقرار کرتی رہی 

میں وہ لڑکی ہوں جو محبت میں 

سارے جذبے نثار کرتی رہی