پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا
وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا
دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا
ہر کسی کو نوازتا ہے دل
عشق دریوزہ گر نہیں ہوتا
مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
تُو اگر ہم سفر نہیں ہوتا
ایک در سے جو لو لگاتا ہے
وہ کبھی در بدر نہیں ہوتا
زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا
میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
مجھ کو لوگوں کا ڈر نہیں ہوتا
کرن وقار
No comments:
Post a Comment