Sunday, 11 April 2021

پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

 پیڑ جو با ثمر نہیں ہوتا

وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا 

دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے

بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا 

ہر کسی کو نوازتا ہے دل

عشق دریوزہ گر نہیں ہوتا

مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی 

تُو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

ایک در سے جو لو لگاتا ہے

وہ کبھی در بدر نہیں ہوتا

زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں

ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا 

میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں

مجھ کو لوگوں کا ڈر نہیں ہوتا


کرن وقار

No comments:

Post a Comment