مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی
یہ شوخی اور شرارت تو میری فطرت کا حصہ ہے
میری یہ خوش مزاجی تو کسی نیکی کا بدلہ ہے
میرے سب مہربانوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی
کسی کی بے وفائی سے بھی میں روتی نہیں ہر گز
کسی کے زخم دینے سے بھی کوئی دکھ نہیں ہوتا
خدا کی برکتوں کو ہی ہمیشہ یاد رکھتی ہوں
بناوٹ کے اصولوں سے
ہمیشہ دور رہتی ہوں
مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی
مجھے عادت ہے باتوں کی
میری باتوں پہ مت جانا
مجھے عادت ہے ہنسنے کی
میرے ہنسنے پہ مت جانا
میری آنکھوں کی شوخی کو
کوئی بھی نام مت دینا
میرے ہونٹوں کی مستی کو
کوئی الزام مت دینا
مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی
سبینہ سحر
No comments:
Post a Comment