Sunday, 11 April 2021

یہ شوخی اور شرارت تو میری فطرت کا حصہ ہے

 مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی


یہ شوخی اور شرارت تو میری فطرت کا حصہ ہے

میری یہ خوش مزاجی تو کسی نیکی کا بدلہ ہے

میرے سب مہربانوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے

مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی

کسی کی بے وفائی سے بھی میں روتی نہیں ہر گز

کسی کے زخم دینے سے بھی کوئی دکھ نہیں ہوتا

خدا کی برکتوں کو ہی ہمیشہ یاد رکھتی ہوں

بناوٹ کے اصولوں سے

ہمیشہ دور رہتی ہوں

مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی

مجھے عادت ہے باتوں کی

میری باتوں پہ مت جانا

مجھے عادت ہے ہنسنے کی

میرے ہنسنے پہ مت جانا

میری آنکھوں کی شوخی کو

کوئی بھی نام مت دینا

میرے ہونٹوں کی مستی کو

کوئی الزام مت دینا

مجھے عادت ہے ہنسنے کی ہمیشہ مسکرانے کی


سبینہ سحر

No comments:

Post a Comment