Showing posts with label عشرت بریلوی. Show all posts
Showing posts with label عشرت بریلوی. Show all posts

Monday, 1 February 2021

یہ بولا آہ بھر با جان غمناک

 اقتباس از مثنوی


یہ بولا آہ بھر با جانِ غمناک

کہ ہے آخر یہ دنیا بسر خاک

کوئی کیا اس کے اوپر دل لگاوے

دو روزہ زندگی پر جی جلاوے

ہوا یاں کب کسی کا کام پورا

کہ ہے یہ کام دنیا سب ادھورا

Thursday, 5 May 2016

تشریف شب کو لانا کیوں عار جانتے ہیں

تشریف شب کو لانا کیوں عار جانتے ہیں
شاید کہ آپ ہم کو بدکار جانتے ہیں
زلفوں کے پیچ میں ہم گو جانتے نہیں کچھ
پر سر پٹک کے اپنا من ہار جانتے ہیں
وحشت میں جو جو ہم نے پتھروں سے سر کو مارا
صحرا میں جا کے پوچھو، کہسار جانتے ہیں

شب وصال میں دل پر قلق ابھی سے ہے

شبِ وصال میں دل پر قلق ابھی سے ہے
سحر ہے دور میرا رنگ فق ابھی سے ہے
ہنوز دفن ہوا ہی نہیں تِرا بسمل
کہ زلزلے میں زمیں کا طبق ابھی سے ہے
میں لکھ چکا ہی نہیں حالِ دل کہ اسکی طرف
ہوائے شوق میں اڑتا ورق ابھی سے ہے

Monday, 18 April 2016

تم جو اے جان ہمیں شکل دکھانے کے نہیں

تم جو اے جان! ہمیں شکل دکھانے کے نہیں
تو کوئ دن ہی میں جیتا ہمیں پانے کے نہیں
جن کے گھر دوستو! ہم آپ سے جانے کے نہیں
“کیا غضب ہے کہ وہ کہتے ہیں ”بلانے کے نہیں
اے صبا! تُو ہی مِرا حال کہہ اس غافل سے
ہمنشیں اس کے تو کچھ یاد دِلانے کے نہیں

کہتا ہے تو مجھے کہ نہ جا کوئے یار کو

کہتا ہے تُو مجھے کہ نہ جا کُوئے یار کو
ناصح! پہ کیا کروں میں دلِ بے قرار کو
ہے لطف سیرِ لالہ کا جب تُو بغل میں ہو
تُو ہی نہ ہو،۔۔ آگ لگے اس بہار کو
دامن تک اس کے کہوں کیا کہ ایک دن
ہمدم ہوئی رسائی نہ میرے غبار کو