اقتباس از مثنوی
یہ بولا آہ بھر با جانِ غمناک
کہ ہے آخر یہ دنیا بسر خاک
کوئی کیا اس کے اوپر دل لگاوے
دو روزہ زندگی پر جی جلاوے
ہوا یاں کب کسی کا کام پورا
کہ ہے یہ کام دنیا سب ادھورا
اقتباس از مثنوی
یہ بولا آہ بھر با جانِ غمناک
کہ ہے آخر یہ دنیا بسر خاک
کوئی کیا اس کے اوپر دل لگاوے
دو روزہ زندگی پر جی جلاوے
ہوا یاں کب کسی کا کام پورا
کہ ہے یہ کام دنیا سب ادھورا