نیم خوابی
حسن کا دریا
چڑھتا ہے آنکھوں میں
یادوں کی ندی امڈتی ہے
اندھیرا ہے
اکیلا ہوں، شہر سے دور
نیم خوابی میں، کہیں ٹھٹکتا
نیم خوابی
حسن کا دریا
چڑھتا ہے آنکھوں میں
یادوں کی ندی امڈتی ہے
اندھیرا ہے
اکیلا ہوں، شہر سے دور
نیم خوابی میں، کہیں ٹھٹکتا
بے آواز دکھ
دکھ
ندی ہے
گہری
سمرتیوں کی
بہتی رہی بے آواز
تھکی، ٹوٹی اکیلے پن سے
چُپی
تمہارے ہونٹوں پر
چُپیاں کِھل آئی ہیں
جنگلی پھُولوں کی طرح
اور میں تمہارے ہونٹوں کو نہیں
نہ جنگلی پھُولوں کو دیکھنا چاہتا ہوں
میں چاہتا ہوں
شبدوں کا گل مہر
کال نے
لکھ دیا مجھے
شبدوں کے مانند
میرے یُگ کے چہرے پر
چاہتا ہوں فقط
شبدوں کا سلگتا گل مہر