Showing posts with label گوبند پرساد. Show all posts
Showing posts with label گوبند پرساد. Show all posts

Monday, 13 October 2025

نیم خوابی میں کہیں ٹھٹکتا آسماں بے نور

 نیم خوابی


حسن کا دریا

چڑھتا ہے آنکھوں میں

یادوں کی ندی امڈتی ہے

اندھیرا ہے

اکیلا ہوں، شہر سے دور

نیم خوابی میں، کہیں ٹھٹکتا

Wednesday, 1 January 2025

بے آواز دکھ دکھ ندی ہے

 بے آواز دکھ


دکھ

ندی ہے

گہری

سمرتیوں کی

بہتی رہی بے آواز

تھکی، ٹوٹی اکیلے پن سے

Friday, 29 November 2024

تمہارے ہونٹوں پر چپیاں کھل آئی ہیں

 چُپی


تمہارے ہونٹوں پر

چُپیاں کِھل آئی ہیں

جنگلی پھُولوں کی طرح

اور میں تمہارے ہونٹوں کو نہیں

نہ جنگلی پھُولوں کو دیکھنا چاہتا ہوں

میں چاہتا ہوں

Thursday, 28 November 2024

شبدوں کا سلگتا گل مہر

 شبدوں کا گل مہر


کال نے

لکھ دیا مجھے

شبدوں کے مانند

میرے یُگ کے چہرے پر

چاہتا ہوں فقط

شبدوں کا سلگتا گل مہر