لمس اول
یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا
وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی
سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی
جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی
دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے
تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں
لمس اول
یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا
وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی
سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی
جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی
دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے
تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں
کسی برگد🌳 کا سر راہ نہ احسان لیا
اپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیا
بھیس بدلے تو بہت ہم نے ہوا کے ڈر سے
سنگ و دیوار نے ہر شہر میں پہچان لیا
لوگ خوابوں کے دریچوں میں چھپے بیٹھے ہیں
حاکم شہر نے ہر شخص کا ایمان لیا
آنکھیں انگلیاں اور دل
راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہے
کھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیات
کب سے اک غار کی مانند پڑی ہیں ویراں
قبر میں سانپ کا بل جھانک رہا ہو جیسے
راکھ ہی راکھ ہے
کیسا جشنِ بہار ہے اپنا؟
گُل پہ سایہ بھی بار ہے اپنا
سِسکیاں لے رہی ہے شامِ فراق
پھر مجھے اِنتظار ہے اپنا
عشق کا راگ کس نے چھیڑ دیا
ہر نفس شعلہ بار ہے اپنا