Showing posts with label کیلاش ماہر. Show all posts
Showing posts with label کیلاش ماہر. Show all posts

Tuesday, 3 March 2026

یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا

 لمس اول


یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیا

وہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئی

سہمی سہمی سی نگاہوں میں ذرا بات ہوئی

جب تری زلف پر افشاں سے ہوا آتی تھی

دل کے تاریک بیابان مہک جاتے تھے

تو نے گھبرا کے چھپائی تھیں جو اپنی آنکھیں

Saturday, 4 January 2025

کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا

 کسی برگد🌳 کا سر راہ نہ احسان لیا

اپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیا

بھیس بدلے تو بہت ہم نے ہوا کے ڈر سے

سنگ و دیوار نے ہر شہر میں پہچان لیا

لوگ خوابوں کے دریچوں میں چھپے بیٹھے ہیں

حاکم شہر نے ہر شخص کا ایمان لیا

Wednesday, 27 November 2024

راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہے

 آنکھیں انگلیاں اور دل


راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہے

کھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیات

کب سے اک غار کی مانند پڑی ہیں ویراں

قبر میں سانپ کا بل جھانک رہا ہو جیسے

راکھ ہی راکھ ہے

Sunday, 24 November 2024

کیسا جشن بہار ہے اپنا

 کیسا جشنِ بہار ہے اپنا؟

گُل پہ سایہ بھی بار ہے اپنا

سِسکیاں لے رہی ہے شامِ فراق

پھر مجھے اِنتظار ہے اپنا

عشق کا راگ کس نے چھیڑ دیا

ہر نفس شعلہ بار ہے اپنا