وقفِ اُلفت ہو برُوئے کار آئے دل کرے
آدمی کچھ تو حقوقِ زندگی حاصل کرے
وہ نگاہِ ناز مجھ کو بستۂ مُشکل کرے
جو بیک گردش مہِ نو کو مہ کامل کرے
دل کو کیا کیا حسرتیں ہیں قربِ حُسن دوست کی
پہلے یہ دیوانہ اپنا قُرب تو حاصل کرے
دین و دُنیا سے ہوئے بیگانہ ہم اچھا ہوا
آرزوئے دید سے بھی اب خدا غافل کرے
میں توجہ بھی کروں تو رُخ زمانہ پھیر لے
وہ تغافل بھی کرے تو دید کے قابل کرے
رازِ فطرت تو یوں ہی ہوتے ہیں اکثر مُنکشف
عُقدۂ مُشکل کو انساں اور بھی مُشکل کرے
دل کے ہاتھوں میری بربادی ہے عبرت کا مقام
شاید آئندہ نہ کوئی آرزُوئے دل کرے
سجدۂ شکرانہ سب کچھ ہے سمجھانے کے لیے
کون منزل پر پہہنچ کر شکوۂ منزل کرے
جان پر تو توبن رہی ہے اشتیاقِ دید میں
اور کیا مجبور فطرت سے زیادہ دل کرے
امتیازِ نیک و بد ہی بے خُودی نے کھو دیا
جس کو فُرصت حال سے ہو فکرِ مُستقبل کرے
کس لیے حیدر! مِری شاہد پرستی ناگوار؟
میری وہ دُنیا نہیں جو دین سے غافل کرے
حیدر دہلوی
No comments:
Post a Comment