عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہمیں ہے پیار جو بے انتہا مدینے سے
ہمیں ملا ہے خدا با خدا مدینے سے
بس ایک بار رسولِ خداﷺ بلائیں فقط
پھر اُس کے بعد نہ لائے خدا مدینے سے
میں اُٹھ رہوں گا بصد شوق اے خدائے جلال
اگر اُٹھا ہی رہا ہے اُٹھا مدینے سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہمیں ہے پیار جو بے انتہا مدینے سے
ہمیں ملا ہے خدا با خدا مدینے سے
بس ایک بار رسولِ خداﷺ بلائیں فقط
پھر اُس کے بعد نہ لائے خدا مدینے سے
میں اُٹھ رہوں گا بصد شوق اے خدائے جلال
اگر اُٹھا ہی رہا ہے اُٹھا مدینے سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا کا پرتو زمیں پہ اترا
تو سب نے دیکھا
سبھی نے جانا
سبھی نے مانا
ہر ایک ذرّے نے دی گواہی
امین و صادق، طبیبِ فطرت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
واقعی آپؐ ہی کی دی ہوئی ہے
زندگی آپؐ ہی کی دی ہوئی ہے
سُو بہ سُو راج تھا اندھیرے کا
روشنی آپؐ ہی کی دی ہوئی ہے
دہر میں کچھ نہیں تھا غم کے سوا
ہر خوشی آپؐ ہی کی دی ہوئی ہے
روک مت سلسلہ چراغ جلا
ایک سے دوسرا چراغ جلا
غیبتِ شب سے لاکھ بہتر ہے
اس سے نظریں ملا چراغ جلا
تنہا بیٹھا ہے کیوں اندھیرے میں
کوئی جگنو بُلا،۔ چراغ جلا
بہ ہر سو خامشی سی جانے کیوں ہے
کہی بھی ان کہی سی جانے کیوں ہے
بہت کم گو فسردہ سی، مگر وہ
ہمیں لگتی بھلی سی جانے کیوں ہے
زہے سب کچھ میسر ہے پہ دل کو
ہمیشہ اک کمی سی جانے کیوں ہے