Saturday, 17 April 2021

روک مت سلسلہ چراغ جلا

روک مت سلسلہ چراغ جلا

ایک سے دوسرا چراغ جلا

غیبتِ شب سے لاکھ بہتر ہے

اس سے نظریں ملا چراغ جلا

تنہا بیٹھا ہے کیوں اندھیرے میں

کوئی جگنو بُلا،۔ چراغ جلا

بھول جا تلخئ شب دیروز

جو ہوا سو ہوا، چراغ جلا

خالی باتوں سے کچھ نہیں ہو گا

دل مرا مت جلا، چراغ جلا

ٹھوکریں کھا رہی ہے خلق خدا

گھر سے باہر تو آ چراغ جلا

رنگ فق ہو گیا اندھیرے کا

اُس نے جونہی سنا چراغ جلا

چھوڑ یہ فلسفے علی تاصف

کیا بقاء کیا فنا، چراغ جلا


علی تاصف

No comments:

Post a Comment