Saturday, 17 April 2021

دل میں وہ درد اٹھا رات کہ ہم سو نہ سکے

 دل میں وہ درد اٹھا رات کہ ہم سو نہ سکے

ایسے بکھرے تھے خیالات کہ ہم سو نہ سکے

تھپکیاں دیتے رہے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے

اس قدر جل اٹھے جذبات کہ ہم سو نہ سکے

آنکھیں تکتی رہیں تکتی رہیں اور تھک بھی گئیں

ہائے رے پاس روایات کہ ہم سو نہ سکے

یہ بھی سچ ہے کہ نہ ہشیار نہ بے دار تھے ہم

یہ بھی سچی ہے مگر بات کہ ہم سو نہ سکے

ایک دو پل کے لیے ہم کو عطا ہو جائے

نیند اے قبلۂ حاجات کہ ہم سو نہ سکے

ساز دوراں پہ کچھ اس طرح سے انگشت حیات

چھیڑتی جاتی تھی نغمات کہ ہم سو نہ سکے

ایک سناٹا تھا آواز نہ تھی اور نہ جواب

دل میں اتنے تھے سوالات کہ ہم سو نہ سکے

جھلملاتے رہے تاریک شبستاں کے پرے

ایسے بیتے ہوئے لمحات کہ ہم سو نہ سکے

رات بھر دشت تصور میں بھٹکتے ہی رہے

جانے کیا ان سے ہوئی بات کہ ہم سو نہ سکے

عمر بھر یوں تو تمنائی رہے تیشہ بکف

اتنی سنگین تھی ہر رات کہ ہم سو نہ سکے


عزیز تمنائی

No comments:

Post a Comment