مجھے قدرداں نہ سمجھ سکے
مجھے رازداں نہ سمجھ سکے
میں وہ راز ہوں میرے دوستو
جسے رازداں نہ سمجھ سکے
مِری بے خودی سے خطا ہوئی
مجھے مے کدے سے اُٹھا دیا
میں وہ مے پرست ہوں مے کشو
جسے میزباں نہ سمجھ سکے
مِرے دم سے باغ و بہار ہیں
میری ڈال ڈال پہ خار ہیں
میں وہ گُل ہوں اہلِ چمن جسے
کوئی باغباں نہ سمجھ سکے
مجھے وہ مقام عطا کیا
میری اپنی ذاتِ عظیم نے
کہ قلندریوں کی قلندری بھی
یہ داستاں نہ سمجھ سکے
بابا گلزار صابری
فقیر محمد صابری چشتی
No comments:
Post a Comment