اور تو کچھ بھی نہیں پاس نشانی تیری
دیکھتی رہتی ہوں تصویر پرانی تیری
لڑکیاں اور بھی منصوب تیرے نام سے ہیں
کیا کوئی میری طرح بھی ہے دیوانی تیری
میرے پھولوں میں مہکتا ہے پسینہ تیرا
میرے ہاتھوں میں کھنکتی ہے جوانی تیری
اور تو کچھ بھی نہیں پاس نشانی تیری
دیکھتی رہتی ہوں تصویر پرانی تیری
لڑکیاں اور بھی منصوب تیرے نام سے ہیں
کیا کوئی میری طرح بھی ہے دیوانی تیری
میرے پھولوں میں مہکتا ہے پسینہ تیرا
میرے ہاتھوں میں کھنکتی ہے جوانی تیری
توڑ کر ہر قسم، آپ کے شہر میں
آ گئے آج ہم، آپ کے شہر میں
ہو کے وہ رہ گیا، آپ کے شہر کا
جس نے رکھا قدم، آپ کے شہر میں
اک نہ اک دن ملاقات ہو جائے گی
آتے رہتے ہیں ہم، آپ کے شہر میں
رنگ اس موسم میں بھرنا چاہیے
سوچتی ہوں پیار کرنا چاہیے
زندگی کو زندگی کے واسطے
روز جینا، روز مرنا چاہیے
دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا
دشمنوں سے پیار کرنا چاہیے
پیار کا اقرار دل میں ہو، مگر
کوئی پوچھے تو مکرنا چاہیے
انجم رہبر
اک سانولی سی لڑکی، ایک باؤلی سی لڑکی
کچی ہے عمر جس کی
کچھ دن سے جانے کس کی
چاہت میں کهو گئی ہے
دیوانی ہو گئی ہے
کیا جانے خواب کس کا
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی
تیرے خط آج میں دریا میں بہانے آئی
پھر تِری یاد نئے خواب دکھانے آئی
چاندنی جھیل کے پانی میں نہانے آئی
دن سہیلی کی طرح ساتھ رہا آنگن میں
رات دشمن کی طرح جان جلانے آئی
تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
میں زہر کھا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
کل میری ایک پیاری سہیلی کتاب میں
اک خط چھپا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے
اس وقت رات رانی مِرے سونے صحن میں
خوشبو لٹا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے