Showing posts with label انجم رہبر. Show all posts
Showing posts with label انجم رہبر. Show all posts

Tuesday, 3 May 2022

اور تو کچھ بھی نہیں پاس نشانی تیری

 اور تو کچھ بھی نہیں پاس نشانی تیری

دیکھتی رہتی ہوں تصویر پرانی تیری

لڑکیاں اور بھی منصوب تیرے نام سے ہیں

کیا کوئی میری طرح بھی ہے دیوانی تیری

میرے پھولوں میں مہکتا ہے پسینہ تیرا

میرے ہاتھوں میں کھنکتی ہے جوانی تیری

Wednesday, 15 December 2021

توڑ کر ہر قسم آپ کے شہر میں

 توڑ کر ہر قسم، آپ کے شہر میں

آ گئے آج ہم، آپ کے شہر میں

ہو کے وہ رہ گیا، آپ کے شہر کا

جس نے رکھا قدم، آپ کے شہر میں

اک نہ اک دن ملاقات ہو جائے گی

آتے رہتے ہیں ہم، آپ کے شہر میں

Monday, 1 March 2021

رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے

 رنگ اس موسم میں بھرنا چاہیے

سوچتی ہوں پیار کرنا چاہیے

زندگی کو زندگی کے واسطے

روز جینا، روز مرنا چاہیے

دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا

دشمنوں سے پیار کرنا چاہیے

پیار کا اقرار دل میں ہو، مگر

کوئی پوچھے تو مکرنا چاہیے


انجم رہبر

Monday, 2 November 2020

اک سانولی سی لڑکی

 اک سانولی سی لڑکی، ایک باؤلی سی لڑکی

کچی ہے عمر جس کی

کچھ دن سے جانے کس کی

چاہت میں کهو گئی ہے

دیوانی ہو گئی ہے

کیا جانے خواب کس کا

Sunday, 11 October 2020

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی

 آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی

تیرے خط آج میں دریا میں بہانے آئی

پھر تِری یاد نئے خواب دکھانے آئی

چاندنی جھیل کے پانی میں نہانے آئی

دن سہیلی کی طرح ساتھ رہا آنگن میں

رات دشمن کی طرح جان جلانے آئی

Saturday, 26 September 2020

تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

 تم کو بھلا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

میں زہر کھا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

کل میری ایک پیاری سہیلی کتاب میں

اک خط چھپا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

اس وقت رات رانی مِرے سونے صحن میں

خوشبو لٹا رہی تھی کہ تم یاد آ گئے

Wednesday, 30 November 2016

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
ان کا ہر عیب زمانے کو ہُنر لگتا ہے
چاند تارے میرے قدموں میں بِچھے جاتے ہیں
یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے
ماں مجھے دیکھ کہ ناراض نہ ہو جائے کہیں
سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے

انجم رہبر

Tuesday, 26 January 2016

محبتوں کو سلیقہ سکھا دیا میں نے

محبتوں کو سلیقہ سکھا دیا میں نے
تِرے بغیر بھی جی کر دکھا دیا میں نے
بچھڑنا میرا تو قسمت کی بات ہے لیکن
دعائیں دے، تجھے شاعر بنا دیا میں نے
جو تیری یاد دلاتا تھا، چہچہاتا تھا
منڈیر سے وہ پرندہ اڑا دیا میں نے

دن رات برستا ہو جو بادل نہیں دیکھا

دن رات برستا ہو جو بادل نہیں دیکھا
آنکھوں کی طرح کوئی بھی بادل نہیں دیکھا
کیوں لوگ یہاں دیتے ہیں رشتوں کی دہائی
اس پیڑ پہ ہم نے تو کوئی پھل نہیں دیکھا
انسان درندوں کی طرح گھوم رہے ہیں
شہروں کی طرح کوئی بھی جنگل نہیں دیکھا

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں

کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں
یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں
وہ بے وفا جو راہ میں ٹکرا گیا کہیں
کہہ دوں گی میں بھی صاف کہ پہچانتی نہیں
سمجھایا بارہا کہ بچو پیار ویار سے
لیکن کوئی سہیلی کہا مانتی نہیں

غم زندگی کا مجھ پر بخدا اثر نہیں ہے

غمِ زندگی کا مجھ پر بخدا اثر نہیں ہے
ابھی لب پہ ہے تبسم ابھی آنکھ تر نہیں ہے
تِری رحمتوں کی شاید اسے کچھ خبر نہیں ہے
جو نہ دل کو دل بنا دے، وہ نظر نظر نہیں ہے
بھلا کیوں نہ ہو تعجب مجھے اپنی سادگی پر
میں اسی پہ مر رہی ہوں جسے کچھ خبر نہیں ہے

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

ملنا تھا اتفاق ... بچھڑنا نصیب تھا
وہ اتنی دور ہو گیا، جتنا قریب تھا
میں اس کو دیکھنے کو ترستی ہی رہ گئی
جس شخص کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا
بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے
گھر جل رہا تھا میرا ... سمندر قریب تھا

Wednesday, 20 January 2016

یہ کون جا رہا ہے مرا گاؤں چھوڑ کے

یہ کون جا رہا ہے مِرا گاؤں چھوڑ کے
آنکھوں نے رکھ دیے ہیں سمندر نچوڑ کے
میں اپنی شکل ڈھونڈتی رہتی ہوں رات بھر
آئینے توڑ کے کبھی ۔۔ آئینے جوڑ کے
آندھی کا کوئی خوف نہ خطرہ ہواؤں کا
میں نے دیے بنائے ہیں سورج کو توڑ کے

ہاتھ یوں ہاتھ میں نہیں ملتا

ہاتھ یوں ہاتھ میں نہیں ملتا
پیار سوغات میں نہیں ملتا
پیار ملتا ہے پیار سے انجمؔ
پیار خیرات میں نہیں ملتا

انجم رہبر

اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو

اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو 
مجھ کو جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دو
مے کدے بند بھی ہو جائیں تو پروا نہ کرو
کسی کم ظرف کے ہاتھوں میں مگر جام نہ دو

انجم رہبر

سچ بات مان لیجئے چہرے پہ دھول ہے

سچ بات مان لیجیے چہرے پہ دھول ہے
الزام آئینوں پہ لگانا فضول ہے
تیری نوازشیں ہوں تو کانٹا بھی پھول ہے
غم بھی مجھے قبول، خوشی بھی قبول ہے
اس پار۔۔ اب تو کوئی تیرا منتظر نہیں
کچے گھڑے پہ تیر کر جانا فضول ہے