Sunday, 11 October 2020

آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی

 آگ بہتے ہوئے پانی میں لگانے آئی

تیرے خط آج میں دریا میں بہانے آئی

پھر تِری یاد نئے خواب دکھانے آئی

چاندنی جھیل کے پانی میں نہانے آئی

دن سہیلی کی طرح ساتھ رہا آنگن میں

رات دشمن کی طرح جان جلانے آئی

میں نے بھی دیکھ لیا آج اسے غیر کے ساتھ

اب کہیں جا کے مِری عقل ٹھکانے آئی

زندگی تو کسی رہزن کی طرح تھی انجم

موت رہبر کی طرح راہ دکھانے آئی


انجم رہبر

No comments:

Post a Comment