Sunday, 11 October 2020

دل پیاسا اور آنکھ سوالی رہ جاتی ہے

 دل پیاسا اور آنکھ سوالی رہ جاتی ہے

اس کے بعد یہ بستی خالی رہ جاتی ہے

بے خوابی کب چھپ سکتی ہے کاجل سے بھی

جاگنے والی آنکھ میں لالی رہ جاتی ہے

تیر ترازو ہو جاتا ہے ا ٓکر دل میں

ہاتھوں میں زیتون کی ڈالی رہ جاتی ہے

دھوپ سے رنگ اور ہوا سے کاغذ اڑ جانے ہیں

ذہن میں اک تصویر خیالی رہ جاتی ہے

کبھی کبھی تو اظہر بالکل مر جاتا ہوں

بس اک مٹی اوڑھنے والی رہ جاتی ہے


اظہر ادیب

No comments:

Post a Comment