مہماں کو گھر میں آئے زمانہ گُزر گیا
دل کا دِیا 🪔 بُجھائے زمانہ گزر گیا
آنکھوں میں اشک آئے ہیں سُن کر ہنسی کا نام
لیکن ہنسی کو آئے زمانہ گزر گیا
اے زندگی! اُتار بھی اس بارِ دوش کو
میّت مِری اُٹھائے زمانہ گزر گیا
کہتا رہا ہوں دل سے کہ آئے گی پھر بہار
اس آرزُو میں ہائے زمانہ گزر گیا
اب بھی فریب دیتی ہے آنکھوں کی روشنی
صُورت تِری بھُلائے زمانہ گزر گیا
سیماب میں ہوں اور مُسلسل غمِ حیات
خُوشیوں کو مُنہ دِکھائے زمانہ گزر گیا
سیماب سلطانپوری
دھرم ویر دھیر
No comments:
Post a Comment