Showing posts with label توقیر عباس. Show all posts
Showing posts with label توقیر عباس. Show all posts

Thursday, 29 August 2024

نظام زیست برہم ہے ہمارا یا رسول اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نظامِ زیست برہم ہے ہمارا یا رسول اللہ

کرم کی ہو نظر ہم پر خدارا یا رسول اللہ

یہی حسرت یہی خواہش یہی ہے آرزو آقا

مروں میں تو لبوں پر ہو یہ نعرہ یا رسول اللہ

خدا نے قلب پر میرے محمدﷺ نام لکھا ہے

قسم رب کی میں شیدہ ہوں تمہارا یا رسول اللہ

Sunday, 21 January 2024

من کو ذکر مصطفٰے سے آفتابی کر رہا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدتوں سے میں تو اپنی عکس یابی کر رہا ہوں

من کو ذکرِ مصطفٰےﷺ سے آفتابی کر رہا ہوں

ان کے اسوے سے دئیے تشکیل خد و خال ان کے

اپنے باطن کی نگاہوں کو صحابی کر رہا ہوں

عشق ہوں خُوشبو بھری ہے گُفتگو، احباب میرے

میں تو اس بے رنگ دنیا کو گُلابی کر رہا ہوں

Friday, 4 August 2023

دل کس سے ملنے کی چاہ میں ہوتا ہے

 دل کس سے ملنے کی چاہ میں ہوتا ہے

کیوں جنگل میں بھیڑیا شب بھر روتا ہے

کس کو کسی سے ہے امید وفاؤں کی

پانی کب بد رو کا کوئی بلوتا ہے

چاندنی اس کا نور اڑا لے جاتی ہے

رات کو چھت پر جا کر جو بھی سوتا ہے

Sunday, 18 December 2022

اک سانولی کی دید زیارت تھی طور کی

 اک سانولی کی دید زیارت تھی طور کی

انجیل کی طرح تھی وہ آیتِ زبور کی

تصویر ہو رہی تھی ہر اک رنگ سے تہی

لبریز گوش کرتی صدا ایک دور کی

آنکھوں میں ایک تیز اجالے کا خوف تھا

امڈی ہوئی تھی دل میں گھڑی اک سرور کی

Monday, 16 August 2021

کرب تحریر سے نکل آیا

کرب تحریر سے نکل آیا

رنگ تصویر سے نکل آیا

بات بنیاد کی نکل آئی

عیب تعمیر سے نکل آیا

کتنا اچھا ہے ناتواں ہونا

پاؤں زنجیر سے نکل آیا

Tuesday, 16 March 2021

جس دریا کی پیاس بجھائی جائے گی

 جس دریا کی پیاس بجھائی جائے گی

عرب کی ریت اسے دکھلائی جائے گی

چاند پہ پہلے سورج لایا جائے گا

حمد سے پہلے میم لگائی جائے گی

حمد کے سب گوشے روشن ہو جائیں گے

نعت کی ایسی دھوپ بچھائی جائے گی

Wednesday, 18 November 2020

بالی ہے مرے کان میں پیروں میں کڑا ہے

 بالی ہے مرے کان میں پیروں میں کڑا ہے

میرے لیے اعزاز غلامی کا بڑا ہے

ساتھ اس کے مجھے کاٹ گرائے گا زمانہ

یہ پیڑ نہیں ہے مرا ہمزاد کھڑا ہے

معلوم نہیں کونسی رت اذنِ نمو دے

اک سایہ جو صدیوں سے تہِ برف پڑا ہے

Tuesday, 21 February 2017

قائل آہ و فغاں کے تھے ہی نہیں

قائل آہ و فغاں کے تھے ہی نہیں
ساۓ اس سائباں کے تھے ہی نہیں
شور گریہ پزیر ہوتا تھا 
قابل اپنے بیاں کے تھے ہی نہیں
ہمیں لوگوں نے اجنبی سمجھا 
ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں

میان دوستاں رہتا بہت ہوں

میانِ دوستاں رہتا بہت ہوں 
کہوں کس سے کہ میں تنہا بہت ہوں 
نجانے کیا خطا سرزد ہوئی تھی
میں اپنے آپ پر برسا بہت ہوں
پرندے بھی مجھے پہچانتے ہیں
میں ان پیڑوں تلے بیٹھا بہت ہوں

رنج و آزردگی میں کیا کچھ تھا

رنج و آزردگی میں کیا کچھ تھا
تیری موجودگی میں کیا کچھ تھا
چھوڑ آیا جنہیں سسکتے ہوئے
ہائے اس کی گلی میں کیا کچھ تھا
اس طرف تو بہت اندھیرا تھا
اس طرف روشنی میں کیا کچھ تھا

واہموں نے گھیرا ہے

واہموں نے گھیرا ہے 
دھوپ میں اندھیرا ہے
دور کے زمانے میں 
جوگیوں کا ڈیرہ ہے
پانیوں میں بہتے ہیں 
کون تیرا میرا ہے

Friday, 23 September 2016

ناؤ جب پانیوں سے نکلے گی

ناؤ جب پانیوں سے نکلے گی
زندگی دور دور پھیلے گی
یہ جو دریا سے اٹھ رہی ہے گھٹا 
ایک صحرا پہ جا کے برسے گی
آپ اپنی مُہار تھامے ہوئے
زندگانی ادھرے سے گزرے گی

پھر اداسی میں شوخ رنگ آیا

پھر اداسی میں شوخ رنگ آیا
شہر میں جب سخی کا سنگ آیا
وہ جو پلتی ہے آستینوں میں 
میں تو اس دوستی سے تنگ آیا
ایک دن تو اسے الجھنا تھا
جب ہواؤں سے دِیپ تنگ آیا

کسی مکان میں جب کوئی شمع جلتی ہے

کسی مکان میں جب کوئی شمع جلتی ہے 
ہوائے شہر کئی زاویے بدلتی ہے
اسے بتاؤ کہ چہرہ بدل کے ملنے سے 
کسی بھی شخص کی فطرت کہاں بدلتی ہے
نجانے کس نے مدد کے لیے پکارا تھا 
نجانے کس کی صدا ساتھ ساتھ چلتی ہے

دھوپ کس کے لئے گلیوں میں کھڑی رہتی ہے

دھوپ کس کیلئے گلیوں میں کھڑی رہتی ہے
ورنہ، گھر گھر تو فقط شام پڑی رہتی ہے
کوئی سندیسہ ہے اندیکھے جہانوں کا مجھے
ایک آواز سماعت میں گڑی رہتی ہے
دل کے بارے میں زیادہ نہیں معلوم مجھے 
دشتِ بنجر ہے سدا دھوپ کڑی رہتی ہے

منعکس ایک یاد ہوتی رہی

منعکس ایک یاد ہوتی رہی 
کب تِرے آئینوں سے دھوپ ڈھلی
چھُو گئی تھی کسی کی یاد مجھے
برف کی وادیوں میں صبح ہوئی
گھر کو روشن تو کر لیا تُو نے 
تیرے نینوں میں زندگی نہ ڈھلی

Wednesday, 30 March 2016

ایک ٹہنی سے برگ ٹوٹا ہے

ایک ٹہنی سے برگ ٹُوٹا ہے
ساری شاخوں سے خُون پھُوٹا ہے
اب تو قسمت پہ چھوڑ دے ملنا
تیز پانی میں ہاتھ چھُوٹا ہے
میں نے پھُولوں پہ ہاتھ رکھا تھا
کیوں ہتھیلی سے خُون پھُوٹا ہے

ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی

ریت پہ جب تصویر بنائی پانی کی
صحرا نے پھر خاک اُڑائی پانی کی
خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد کھُلا
دونوں کے ہے بیچ لڑائی پانی کی
کشتی کب غرقاب ہوئی معلوم نہیں
آنکھوں نے تصویر بنائی پانی کی

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا

ٹھہرے پانی پہ ہاتھ مارا تھا
دوستوں کو کہاں پکارا تھا
چھوڑ آیا تھا میز پر چائے
یہ جدائی کا استعارا تھا
روح دیتی ہے اب دکھائی مجھے
آئینہ آگ سے گزارا تھا

نجانے آگ کیسی آئینوں میں سو رہی تھی

نجانے آگ کیسی آئینوں میں سو رہی تھی
دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی
لہو میری نسوں میں بھی کبھی کا جم چکا تھا
بدن پر برف کو اوڑھے ندی بھی سو رہی تھی
چمکتے برتنوں میں خون گارا ہو رہا تھا
مِری آنکھوں میں بیٹھی کوئ خواہش رو رہی تھی