جس دریا کی پیاس بجھائی جائے گی
عرب کی ریت اسے دکھلائی جائے گی
چاند پہ پہلے سورج لایا جائے گا
حمد سے پہلے میم لگائی جائے گی
حمد کے سب گوشے روشن ہو جائیں گے
نعت کی ایسی دھوپ بچھائی جائے گی
اس سے لہکتے مہکتے چشمے پھوٹیں گے
میری سوچ بھی جب صحرائی جائے گی
توقیر عباس
No comments:
Post a Comment