ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے
روز اک زخم مِرے نام ہوا لکھتی ہے
زرد پتوں کی چمکتی ہوئی پیشانی پر
ہے کوئی نام جسے باد صبا لکھتی ہے
جو مِرے نام سے منسوب نہیں ہے لیکن
وہ فسانہ بھی مِرا خلقِ خدا لکھتی ہے
ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے
روز اک زخم مِرے نام ہوا لکھتی ہے
زرد پتوں کی چمکتی ہوئی پیشانی پر
ہے کوئی نام جسے باد صبا لکھتی ہے
جو مِرے نام سے منسوب نہیں ہے لیکن
وہ فسانہ بھی مِرا خلقِ خدا لکھتی ہے
کوچۂ سنگ ملامت کے سب آثار کے ساتھ
آ گئے دشت میں ہم بھی در و دیوار کے ساتھ
دشت وحشت نے مِرے نوچ لی شب کی پوشاک
توڑ دی پاؤں کی زنجیر بھی جھنکار کے ساتھ
میری تنہائی میں اک وجد کی کیفیت ہے
رقص کرتا ہوں میں اک عالم اسرار کے ساتھ
آج پھر رو برو کرو گے تم
مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم
مجھ سے لو گے مِرے لہو قصاص
پھر مجھے سرخرو کرو گے تم
حیف ہو میری بد مزاجی پر
آپ اپنا لہو کرو گے تم
شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
کبھی تو دیکھ مِرے ہمنشین کی جانب
میں اپنا زخم دکھاؤں تجھے کہ میں دیکھوں
لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب
ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز
پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب
صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے
وقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے
اپنے سائے سے الگ رکھا ہے سایہ اپنا
اپنی دیوار سے دیوار الگ رکھی ہے
اپنے کس کام کی، لے جاؤ اٹھا کر اس کو
وہ محبت کہ جو بے کار الگ رکھی ہے
کچھ یقیں سا، گمان سا کچھ ہے
جو بھی ہے میری جان سا کچھ ہے
ہاتھ میں ہے مہارِ ناقۂ خاک
سر پہ اک سائبان سا کچھ ہے
فاصلے ختم ہو گئے، لیکن
پھر بھی اک درمیان سا کچھ ہے
مسل دیا ہے درندوں نے جن صداؤں کو
وہ چیخ ہے جو کلیجہ ہلا کے رکھ دے گی
حکومتوں سے کہو جلد احتساب کرے
یہ آگ ورنہ زمیں کو جلا کے رکھ دے گی
جب آنسوؤں کی صدا حشر بن کے اٹھے گی
یہ تخت و تاج ہوا میں اڑا کے رکھ دے گی
عجب نہیں ہے کہ الزام میں نہیں آتا
ہمارا نام کسی نام میں نہیں آتا
میں کھولتا ہوں بدن کی گرہ تسلسل سے
مگر جنون کے افہام میں نہیں آتا
کسے ملال ہے زخموں کی رائیگانی کا
ہمارا درد کسی کام میں نہیں آتا
چیختے آنسو
وہ کس کے ہاتھ میں ہے رخشِ انقلاب کی باگ
وہ اڑ رہا ہے ہواؤں میں کیسا سرخ غبار
پڑے ہیں خاک پہ بکھرے ہوئے لہو کے گلاب
فضا کو چیر رہی ہے کسی دھوئیں کی لکیر
ہوا ہے خطۂ ارضِ جحیم کی صورت
مِری زمیں کا ہر اک قریۂ بہشت نظیر