Showing posts with label شاہد کمال. Show all posts
Showing posts with label شاہد کمال. Show all posts

Wednesday, 27 April 2022

ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے

 ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے

روز اک زخم مِرے نام ہوا لکھتی ہے

زرد پتوں کی چمکتی ہوئی پیشانی پر

ہے کوئی نام جسے باد صبا لکھتی ہے

جو مِرے نام سے منسوب نہیں ہے لیکن

وہ فسانہ بھی مِرا خلقِ خدا لکھتی ہے

Tuesday, 30 November 2021

کوچۂ سنگ ملامت کے سب آثار کے ساتھ

کوچۂ سنگ ملامت کے سب آثار کے ساتھ

آ گئے دشت میں ہم بھی در و دیوار کے ساتھ

دشت وحشت نے مِرے نوچ لی شب کی پوشاک

توڑ دی پاؤں کی زنجیر بھی جھنکار کے ساتھ

میری تنہائی میں اک وجد کی کیفیت ہے

رقص کرتا ہوں میں اک عالم اسرار کے ساتھ

Saturday, 12 June 2021

آج پھر روبرو کرو گے تم

 آج پھر رو برو کرو گے تم

مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم

مجھ سے لو گے مِرے لہو قصاص

پھر مجھے سرخرو کرو گے تم

حیف ہو میری بد مزاجی پر

آپ اپنا لہو کرو گے تم

Wednesday, 21 April 2021

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب

 شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب

کبھی تو دیکھ مِرے ہمنشین کی جانب

میں اپنا زخم دکھاؤں تجھے کہ میں دیکھوں

لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب

ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز

پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب

Friday, 25 September 2020

وقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے

 صورت گردشِ پرکار الگ رکھی ہے

وقت سے کھینچ کے رفتار الگ رکھی ہے

اپنے سائے سے الگ رکھا ہے سایہ اپنا

اپنی دیوار سے دیوار الگ رکھی ہے

اپنے کس کام کی، لے جاؤ اٹھا کر اس کو

وہ محبت کہ جو بے کار الگ رکھی ہے

کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے

 کچھ یقیں سا، گمان سا کچھ ہے

جو بھی ہے میری جان سا کچھ ہے

ہاتھ میں ہے مہارِ ناقۂ خاک

سر پہ اک سائبان سا کچھ ہے

فاصلے ختم ہو گئے، لیکن

پھر بھی اک درمیان سا کچھ ہے

Tuesday, 22 September 2020

مسل دیا ہے درندوں نے جن صداؤں کو

 مسل دیا ہے درندوں نے جن صداؤں کو

وہ چیخ ہے جو کلیجہ ہلا کے رکھ دے گی

حکومتوں سے کہو جلد احتساب کرے

یہ آگ ورنہ زمیں کو جلا کے رکھ دے گی

جب آنسوؤں کی صدا حشر بن کے اٹھے گی

یہ تخت و تاج ہوا میں اڑا کے رکھ دے گی

Saturday, 19 September 2020

عجب نہیں ہے کہ الزام میں نہیں آتا

 عجب نہیں ہے کہ الزام میں نہیں آتا

ہمارا نام کسی نام میں نہیں آتا

میں کھولتا ہوں بدن کی گرہ تسلسل سے

مگر جنون کے افہام میں نہیں آتا

کسے ملال ہے زخموں کی رائیگانی کا

ہمارا درد کسی کام میں نہیں آتا

Thursday, 17 September 2020

وہ کس کے ہاتھ میں ہے رخش انقلاب کی باگ

 چیختے آنسو


وہ کس کے ہاتھ میں ہے رخشِ انقلاب کی باگ

وہ اڑ رہا ہے ہواؤں میں کیسا سرخ غبار

پڑے ہیں خاک پہ بکھرے ہوئے لہو کے گلاب

فضا کو چیر رہی ہے کسی دھوئیں کی لکیر

ہوا ہے خطۂ ارضِ جحیم کی صورت

مِری زمیں کا ہر اک قریۂ بہشت نظیر

Wednesday, 16 September 2020

نوک نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو

ایسا لگتا ہے کہ لب کھول رہا ہے دیکھو
نوکِ نیزہ پہ وہ سر بول رہا ہے دیکھو
لفظ وہ بھی ہے جو ادراکِ سماعت میں نہیں
میرے کانوں میں وہ رس گھول رہا ہے دیکھو
مجھ میں دم توڑ رہا ہے مِرے خوابوں کا چناب
کون آنکھوں میں گہررول رہا ہے دیکھو

دیکھ اے میرے مسیحا ترا بیمار گیا

نذرِ میر

’میں تو سمجھا تھا کہ اے میر یہ آزار گیا‘
دیکھ اے میرے مسیحا! تِرا بیمار گیا
کچھ تو کہہ شہرِ عدم کیسا ہے وہ سرو سخن
لوٹ کر وہ نہیں آیا کہ جو اک بار گیا
دل نہیں تھا وہ کسی شامِ غریباں کا چراغ
جس کو خود اس کی ہی تنہائی کا غم مار گیا

Tuesday, 15 September 2020

وہ حسن کہ جو چشم خریدار میں آوے

نذرِ غالب

وہ حسن کہ جو چشمِ خریدار میں آوے
وہ بھی کوئی یوسف ہے جو بازار میں آوے
وہ سرد سخن سخن جب کبھی گفتار میں آوے
اک تازہ شکن وقت کی رفتار مین آوے
اندیشۂ فردا ہے، کہ احساسِ زیاں ہے
کیوں، خم یہ مِرے جسم کی دیوار میں آوے

Sunday, 13 September 2020

چشم خونناب ہے اک سیل رواں میرے بعد

رنگ اورنگ سلیماں ہے کہاں میرے بعد
چشم خونناب ہے اک سیل رواں میرے بعد
سرمۂ چشم غم جاں تھا مِری آہوں کا
اب تو آوارہ وحشت ہے دھواں میرے بعد
جو مِرا محرم اسرا نوا تھا اے دوست
ہے وہی نغمۂ شام گزراں میرے بعد

طشت از بام کر دیئے جائیں

طشت از بام کر دیئے جائیں
اور بدنام کر دیئے جائیں
اب متاعِ غمِ حیات کے ساتھ
دل بھی نیلام کر دیئے جائیں
سب چراغانِ آفریدۂ شب
سحر ہنگام کر دیئے جائیں

Monday, 8 July 2019

مقتل میں چمکتی ہوئی تلوار تھے ہم لوگ

مقتل میں چمکتی ہوئی تلوار تھے ہم لوگ 
جاں نذر گزاری پہ بھی تیار تھے ہم لوگ
ہم اہلِ شرف لوگ تھے اس شہر میں، لیکن 
رسوا بھی سرِ کوچہ و بازار تھے ہم لوگ
کام آتے نہ تھے ہم کو بس اک کارِ جنوں کے 
دنیا کی نگاہوں میں تو بے کار تھے ہم لوگ

ہجر سے ہو نہ ہی وصال سے ہو

ہجر سے ہو نہ ہی وصال سے ہو
ہو محبت تو اس کمال سے ہو
یہ جو آئینہ چپ ہے، ممکن ہے
محوِ حیرت ترے جمال سے ہو
نقشِ گر! کیا خبر کہ تیرا وجود
خود کسی نقش کے خیال سے ہو

Thursday, 27 April 2017

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں

ابتدا سے میں انتہا کا ہوں
میں ہوں مغرور اور بلا کا ہوں
تٗو بھی ہے اک چراغِ مہلت شب 
میں بھی جھونکا کسی ہوا کا ہوں
پھینک مجھ پر کمند ناز اپنی 
آج میں ہم سفر صبا کا ہوں

غموں کی رات ہے اور اتنی مختصر بھی نہیں

غموں کی رات ہے اور اتنی مختصر بھی نہیں
بہت دنوں سے تمہاری کوئی خبر بھی نہیں
اے شہرِ دل! تِری گلیوں میں خاک اڑتی ہے
یہ کیا ہوا کہ یہاں کوئی نوحہ گر بھی نہیں
تُو میرے ساتھ نہیں ہے تو سوچتا ہوں میں
کہ اب تو تجھ سے بچھڑنے کا کوئی ڈر بھی نہیں