نذرِ غالب
وہ حسن کہ جو چشمِ خریدار میں آوے
وہ بھی کوئی یوسف ہے جو بازار میں آوے
وہ سرد سخن سخن جب کبھی گفتار میں آوے
اک تازہ شکن وقت کی رفتار مین آوے
اندیشۂ فردا ہے، کہ احساسِ زیاں ہے
جب کوئی شکن تیری طبیعت میں نہیں ہے
کیوں پیچ تِرے گوشۂ دستار میں آوے
رہنے دے ابھی سینے میں اس نیزۂ غم کو
اس دل کو مزہ درد کی سُوفار میں آوے
ممکن ہے ترے وصل کی صورت میں مسیحا
جینے کی ہوس کچھ ترے بیمار میں آوے
اب اس سے سوا کیا تہی دامانئ صحرا
شہرت مری تنہائی کی اخبار میں آوے
غالبؔ کا وہ گنجینۂ معنی تو نہیں ہے
کچھ خون جگر ہی مِرے اشعار میں آوے
شاہد کمال
No comments:
Post a Comment