عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
ہے شام، اداسی، اذیت، دعا، نماز اور عشق
ہے دشت، چاند، ہوا، میں، خدا نماز اور عشق
ادھر ہیں شکوے، تکبر، انا، خدا اور حسن
ادھر ہیں اشک،ندامت، قضا نماز اور عشق
سکوت، اندھیرا، تہجد کا وقت، رات، چراغ
یزید، ظلم، ستم، تخت، تاج، بیعت، فوج
حسینؑ، صبر، رضا، کربلا، نماز اور عشق
عمار یاسر مگسی
No comments:
Post a Comment