Tuesday, 15 September 2020

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے
ہم لاکھ بدل جائیں مگر دل تو وہی ہے
موضوع سخن ہے وہی افسانۂ شیریں
محفل ہو کوئی رونق محفل تو وہی ہے
محسوس جو ہوتا ہے دکھائی نہیں دیتا
دل اور نظر میں حد فاضل تو وہی ہے
ہر چند ترے لطف سے محروم نہیں ہم
لیکن دل بے تاب کی مشکل تو وہی ہے
گرداب سے نکلے بھی تو جائیں گے کہاں ہم
ڈوبی تھی جہاں ناؤ یہ ساحل تو وہی ہے
لٹ جاتے ہیں دن کو بھی جہاں قافلے والے
ہشیار مسافر! کہ یہ منزل تو وہی ہے
وہ رنگ وہ آواز وہ سج اور وہ صورت
سچ کہتے ہو تم پیار کے قابل تو وہی ہے
صد شکر کہ اس حال میں جیتے تو ہیں ناصر
حاصل نہ سہی کاوش حاصل تو وہی ہے

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment