Tuesday, 15 September 2020

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
بستی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ
جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان
دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ
ناصر ہم کو رات ملا، تھا، تنہا اور اداس
وہی پرانی باتیں اس کی، وہی پرانا روگ

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment