Showing posts with label دانش علی. Show all posts
Showing posts with label دانش علی. Show all posts

Thursday, 28 September 2023

میں تو سنتا رہوں گا اسے دیر تک

 میں تو سُنتا رہوں گا اسے دیر تک 

گر تِرا ذکر کوئی کرے دیر تک 

میں نے اک بار دعویٰ محبت کا کِیا 

بعد میں مجھ پہ پتھر پڑے دیر تک 

ہجر کے بعد تُو نے جو نغمے لِکھے 

ہم نے وہ سارے نغمے سُنے دیر تک 

Friday, 8 April 2022

حقیقتوں سے پرے واہمے کو کھینچتا ہے

 حقیقتوں سے پرے، واہمے کو کھینچتا ہے

مِرا دماغ فقط وسوسے کو کھینچتا ہے

کسی بھی شے کو جہاں میں اکیلے چین نہیں

ہر ایک جسم کسی دوسرے کو کھینچتا ہے

میں چاہتا ہوں کہ ٹوٹے نہ پیار کی ڈوری

سو ڈھیل دیتا ہوں جب وہ سرے کو کھینچتا ہے

Thursday, 16 September 2021

حسیں ہونے کی بالکل آخری حد تک حسیں ہو تم

 آخری حد


حسیں لڑکی

تمہیں معلوم ہے شاید

تمہیں تکتی ہوئی آنکھیں بہت کچھ سوچ لیتی ہیں

تمہیں تکتی ہوئی دنیا، تمہاری چال پر 

بے پردگی پر فقرے کستی ہے کئی باتیں بناتی ہے

حسیں لڑکی

Saturday, 21 November 2020

سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں

 سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں

وہ لگاتا ہے تو پھر پیڑ ہرے رہتے ہیں

ہم غریبوں کو غریبی کے مسائل ہیں بہت

ہم محبت کے مسائل سے پرے رہتے ہیں

اس چمن کو ملے ہیں اب کے یہ کیسے مالی

تتلیاں خوف زدہ،۔ پھول ڈرے رہتے ہیں