میں تو سُنتا رہوں گا اسے دیر تک
گر تِرا ذکر کوئی کرے دیر تک
میں نے اک بار دعویٰ محبت کا کِیا
بعد میں مجھ پہ پتھر پڑے دیر تک
ہجر کے بعد تُو نے جو نغمے لِکھے
ہم نے وہ سارے نغمے سُنے دیر تک
میں تو سُنتا رہوں گا اسے دیر تک
گر تِرا ذکر کوئی کرے دیر تک
میں نے اک بار دعویٰ محبت کا کِیا
بعد میں مجھ پہ پتھر پڑے دیر تک
ہجر کے بعد تُو نے جو نغمے لِکھے
ہم نے وہ سارے نغمے سُنے دیر تک
حقیقتوں سے پرے، واہمے کو کھینچتا ہے
مِرا دماغ فقط وسوسے کو کھینچتا ہے
کسی بھی شے کو جہاں میں اکیلے چین نہیں
ہر ایک جسم کسی دوسرے کو کھینچتا ہے
میں چاہتا ہوں کہ ٹوٹے نہ پیار کی ڈوری
سو ڈھیل دیتا ہوں جب وہ سرے کو کھینچتا ہے
آخری حد
حسیں لڑکی
تمہیں معلوم ہے شاید
تمہیں تکتی ہوئی آنکھیں بہت کچھ سوچ لیتی ہیں
تمہیں تکتی ہوئی دنیا، تمہاری چال پر
بے پردگی پر فقرے کستی ہے کئی باتیں بناتی ہے
حسیں لڑکی
سن خزاؤں میں بھی پتوں سے بھرے رہتے ہیں
وہ لگاتا ہے تو پھر پیڑ ہرے رہتے ہیں
ہم غریبوں کو غریبی کے مسائل ہیں بہت
ہم محبت کے مسائل سے پرے رہتے ہیں
اس چمن کو ملے ہیں اب کے یہ کیسے مالی
تتلیاں خوف زدہ،۔ پھول ڈرے رہتے ہیں