آخری حد
حسیں لڑکی
تمہیں معلوم ہے شاید
تمہیں تکتی ہوئی آنکھیں بہت کچھ سوچ لیتی ہیں
تمہیں تکتی ہوئی دنیا، تمہاری چال پر
بے پردگی پر فقرے کستی ہے کئی باتیں بناتی ہے
حسیں لڑکی
تمہیں کیسے بتاؤں میں کہ
وہ باتیں تمہارے جسم سے بڑھ کر برہنہ ہیں
حسیں لڑکی
تم ایسا آئینہ ہو
جو شرافت کے لبادے میں پنپنے والی گندی سوچ سے
پردہ اٹھاتا ہے، دِکھاتا ہے کوئی اندر سے کیسا ہے
حسیں لڑکی ہمیشہ یوں ہی رہنا تم
کسی بھی بات کی پرواہ مت کرنا
یقیں رکھنا
کہ جیسا سوچتے ہیں لوگ ویسی تو نہیں ہو تم
حسیں ہونے کی بالکل آخری حد تک حسیں ہو تم
دانش علی
No comments:
Post a Comment