درد تو زخم کی پٹی کے ہٹانے سے اُٹھا
اور کچھ اور بھی مرہم کے لگانے سے اٹھا
اس کے الفاظِ تسلی نے رُلایا مجھ کو
کچھ زیادہ ہی دھواں آگ بجھانے سے اٹھا
عہدِ ماضی بھی تو بے داغ نہیں کیوں کہیے
پاسداری کا چلن آج زمانے سے اٹھا
وجہ ممکن ہے کوئی اور ہو میں یہ سمجھا
وہ تِری بزم میں شاید مِرے آنے سے اٹھا
زلفِ ژولیدہ تو زیبائشِ رخسار ہوئی
مسئلہ سارا فقط اک تِرے شانے سے اٹھا
اپنی پا مردی پہ وہ شخص بھی نازاں ہے ظہیر
جو گرانے سے گرا اور اٹھانے سے اٹھا
ظہیر صدیقی
No comments:
Post a Comment