Showing posts with label عجیب ساجد. Show all posts
Showing posts with label عجیب ساجد. Show all posts

Friday, 8 April 2022

جب میں تیرے قریب ہوتا ہوں

 جب میں تیرے قریب ہوتا ہوں 

جانے کتنا عجیب ہوتا ہوں ہوں 

پڑا دیر سے تِرے در پر 

دیکھیے کب مجیب ہوتا ہوں 

پاس آنے سے ڈر رہے ہیں لوگ 

چونکہ میں تو غریب ہوتا ہوں 

Wednesday, 2 March 2022

اجلی اجلی بھلی بھلی آنکھیں

 اجلی اجلی بھلی بھلی آنکھیں

سحر انگیز ہیں تِری آنکھیں

فلسفہ زندگی کا پڑھنا تھا

مجھ کو پڑھنا پڑیں تِری آنکھیں

دائروں میں حیات سمٹی ہے

دیکھ لیں میں نے مد بھری آنکھیں

Thursday, 24 February 2022

خود بلائیں گے بھول جائیں گے

خود بلائیں گے بھول جائیں گے

 دل جلائیں گے بھول جائیں گے

جا کے پردیس کس کو ہے معلوم

جب وہ جائیں گے بھول جائیں گے

حافظہ ان کا کیا ہی کہنے ہیں

دل لگائیں گے بھول جائیں گے

Wednesday, 23 February 2022

وہ میرے حصے کا گر ہوا تو مجھے ملے گا

 وہ میرے حصے کا گر ہوا تو مجھے ملے گا

مِری دعا میں اثر ہوا تو مجھے ملے گا

جو منزلوں کے فریب میں آ کے چل رہا ہوں

مِرے مقدر میں گھر ہوا تو مجھے ملے گا

وہ جانتا ہے کہ میری بانہوں میں جوسکوں ہے

اسے کسی کا جو ڈر ہوا تو مجھے ملے گا

Monday, 21 February 2022

جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

 جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

لوگ وہ لازوال ہوتے ہیں

عشق جب امتحان لیتا ہے

سر بھی بچنے محال ہوتے ہیں

ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹ پائیں جو

حوصلے وہ کمال ہوتے ہیں

Sunday, 20 February 2022

میں دریا ہوں محبت کا بہا کر لے ہی جاؤں گا

 میں دریا ہوں محبت کا بہا کر لے ہی جاؤں گا

مِری منزل الگ ہو گی میں رستہ خود بناؤں گا

سمجھتے ہو تمھارے بِن نہیں گزرے گی اب اپنی

تمہارے بِن میں دنیا میں تمہیں جی کر دکھاؤں گا

جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا دن نہیں ہوتا

غلط فہمی تمہاری ہے کہ کچھ بھی کر نہ پاؤں گا

Monday, 14 February 2022

قصہ ملال شب کا سنائیں گے اب کسےِ

؟ قصہ ملالِ شب کا سنائیں گے اب کسے

روٹھیں گے کس سے آپ منائیں گے اب کسے

تجھ کو ہی کر رہے تھے، تیری کال آ گئی

سکرین شارٹ لے کے دکھائیں گے اب کسے

دیکھےگا کون اب تِری زلفوں کی چھاؤں کو

چھت پر اشارہ کر کے بلائیں گے اب کسے

Friday, 11 February 2022

نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے

 نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے

گزرتے وقت کا پھر کب کسے احساس ہوتا ہے

تِری بانہوں کے حلقے میں مجھے کب ہوش رہتا ہے

محبت کا حسین جذبہ بہت حساس ہوتا ہے

مِری بانہیں ترستی ہیں ملن کی اس گھڑی کو جب

تو پھر تیرے نہ ہونے کا بہت اِحساس ہوتا ہے

Monday, 7 February 2022

چاک دامن کو ہم نے سیا ہی نہیں

 چاک دامن کو ہم نے سِیا ہی نہیں

زندگی تُو نے دھاگا دیا ہی نہیں

جو مِرے ساتھ شانہ بشانہ رہا

ایسے بچھڑا کہ پھر وہ ملا ہی نہیں

اس نے غم بھی تو مجھ سے ہیں واپس لیے

کوئی جینے کا اب آسرا ہی نہیں

Friday, 4 February 2022

بن تیرے دل میں اب کوئی آباد تک نہیں

 بِن تیرے دل میں اب کوئی آباد تک نہیں

میرے لبوں پہ بھی کوئی فریاد تک نہیں

پوچھا ہے آج مجھ سے کسی نے جو تیرا نام

حیرت کی بات ہے کہ مجھے یاد تک نہیں

💢بنیاد ایک کفر کا فتوٰی ہمارا فن💢

اپنے تو پاس اور کوئی ایجاد تک نہیں

Thursday, 3 February 2022

جی اگر سکتے نہیں ساتھ تو مر سکتے ہیں

 جی اگر سکتے نہیں، ساتھ تو مر سکتے ہیں

ہم محبت میں یہ اک کام تو کر سکتے ہیں

عشق میں قید کا قائل تو نہیں ہوں میں بھی

آپ چاہیں تو محبت سے مُکر سکتے ہیں

شوق سے آؤغمو! جب تک کہ ٹھکانہ نہ ملے

تب تلک آپ مِرے گھر میں ٹہر سکتے ہیں

Wednesday, 2 February 2022

کسی پر جان دیتے تھے کسی پر ہم بھی مرتے تھے

 کسی پر جان دیتے تھے کسی پر ہم بھی مرتے تھے

محبت نام ہے جس کا کبھی یہ ہم بھی کرتے تھے

وہ جب بھی زلفِ برہم کو سجاتا تو چلا آتا

اداسی کو لپیٹے ہم بھی سارا دن سنورتے تھے

اُسے بھی مل گیا کوئی مجھے بھی مل ہی جائے گا

ستم یہ ہے کہ دونوں ہی وفا کی بات کرتے تھے

Monday, 31 January 2022

ہم سے تکرار کرو ہو تم بھی

 ہم سے تکرار کرو ہو، تم بھی

اور لگا تار کرو ہو، تم بھی

عشق کی راہ پہ لا کے مجھ کو

خود تو انکار کرو ہو، تم بھی

کیا کہا؟ ہم بھی تِرے اپنے ہیں

Saturday, 29 January 2022

بھولا نہیں اگر تو بھلا دینا چاہیے

 بھولا نہیں اگر تو بھلا دینا چاہیے

اب اس کا نقش دل سے مٹا دینا چاہیے

اس نے لگا لیے ہیں نئے پیڑ باغ میں

بوڑھا شجر وہاں سے ہٹا دینا چاہیے

کردار سےگئے تو کہانی ہوئی تمام

اب تو نظر سے اپنی گرا دینا چاہیے

Friday, 28 January 2022

کوئی صحرا یا دریا کا کنارہ ڈھونڈ لیتے ہیں

 کوئی صحرا یا دریا کا کنارہ ڈھونڈ لیتے ہیں

چلو اب ہم بھی جینے کا سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں

میں جتنے گھر بھی بدلوں فرق پڑنا ہی نہیں مجھ کو

کہ غم مجھ سے یوں واقف ہیں دوبارہ ڈھونڈ لیتے ہیں

نہیں گر تم نے توڑا تو تعلق کیسے ٹوٹا ہے

قصور اس میں تمہارا تھا، ہمارا ڈھونڈ لیتے ہیں

Monday, 24 January 2022

وحشت نہیں رہی تو سکوں بھی نہیں رہا

 وحشت نہیں رہی تو سکوں بھی نہیں رہا

اب زندگی میں کوئی جنوں بھی نہیں رہا

میرے بھی دل کا حال فسردہ ہے اِن دنوں

اور اُس کی آنکھ میں وہ فسوں بھی نہیں رہا

دھڑکے ترے لیے یہ بھی ممکن نہیں ھے دل

اب تو مِری رگوں میں وہ خوں بھی نہیں رہا

Saturday, 22 January 2022

خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں

 خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں 

محبت ہم دوبارہ کر رہے ہیں 

ابھی دریا میں اترے ہی کہاں ہیں 

ابھی سے سب کنارہ کر رہے ہیں 

ہمیں وہ چھوڑ کر اپنائیں کس کو 

یہی تو استخارہ کر رہے ہیں 

Monday, 17 January 2022

رونے کا حال لکھ نہ رلانے کا حال لکھ

 رونے کا حال لکھ نہ رُلانے کا حال لکھ

لکھنا ہے گر تجھے تو زمانے کا حال لکھ

زنداں میں فاقہ کش یہ گزارے گا زندگی

انصاف دیکھ روٹی چُرانے کا حال لکھ

پہلے تو چھین منہ کے نوِالے غریب کے

پھر ان کی بھوک تُو ہی مٹانے کا حال لکھ

Saturday, 15 January 2022

پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا

 پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا 

دریا نہیں تھا وہ تو مکمل سراب تھا 

دینا نہیں تھا مجھ کو سو خاموش ہی رہا 

ورنہ ہر اک سوال کا فر فر جواب تھا 

دیکھو نا ہو گئی ہے محبت کہا نہ تھا 

تم نے تو لاکھ اس سے کیا اجتناب تھا 

Sunday, 9 January 2022

مقدر میں جو لکھے جا چکے تھے

 مقدر میں جو لکھے جا چکے تھے

وہ سارے غم مجھے سمجھا چکےتھے

تِری محفل میں جب پہنچے ستمگر

وہاں تو غم بھی بانٹے جا چکے تھے

تِری آنکھیں بلا کی فتنہ گر ہیں

تجھے پہلے بھی یہ بتلا چکے تھے