جب میں تیرے قریب ہوتا ہوں
جانے کتنا عجیب ہوتا ہوں ہوں
پڑا دیر سے تِرے در پر
دیکھیے کب مجیب ہوتا ہوں
پاس آنے سے ڈر رہے ہیں لوگ
چونکہ میں تو غریب ہوتا ہوں
جب میں تیرے قریب ہوتا ہوں
جانے کتنا عجیب ہوتا ہوں ہوں
پڑا دیر سے تِرے در پر
دیکھیے کب مجیب ہوتا ہوں
پاس آنے سے ڈر رہے ہیں لوگ
چونکہ میں تو غریب ہوتا ہوں
اجلی اجلی بھلی بھلی آنکھیں
سحر انگیز ہیں تِری آنکھیں
فلسفہ زندگی کا پڑھنا تھا
مجھ کو پڑھنا پڑیں تِری آنکھیں
دائروں میں حیات سمٹی ہے
دیکھ لیں میں نے مد بھری آنکھیں
خود بلائیں گے بھول جائیں گے
دل جلائیں گے بھول جائیں گے
جا کے پردیس کس کو ہے معلوم
جب وہ جائیں گے بھول جائیں گے
حافظہ ان کا کیا ہی کہنے ہیں
دل لگائیں گے بھول جائیں گے
وہ میرے حصے کا گر ہوا تو مجھے ملے گا
مِری دعا میں اثر ہوا تو مجھے ملے گا
جو منزلوں کے فریب میں آ کے چل رہا ہوں
مِرے مقدر میں گھر ہوا تو مجھے ملے گا
وہ جانتا ہے کہ میری بانہوں میں جوسکوں ہے
اسے کسی کا جو ڈر ہوا تو مجھے ملے گا
جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں
لوگ وہ لازوال ہوتے ہیں
عشق جب امتحان لیتا ہے
سر بھی بچنے محال ہوتے ہیں
ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹ پائیں جو
حوصلے وہ کمال ہوتے ہیں
میں دریا ہوں محبت کا بہا کر لے ہی جاؤں گا
مِری منزل الگ ہو گی میں رستہ خود بناؤں گا
سمجھتے ہو تمھارے بِن نہیں گزرے گی اب اپنی
تمہارے بِن میں دنیا میں تمہیں جی کر دکھاؤں گا
جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا دن نہیں ہوتا
غلط فہمی تمہاری ہے کہ کچھ بھی کر نہ پاؤں گا
؟ قصہ ملالِ شب کا سنائیں گے اب کسے
روٹھیں گے کس سے آپ منائیں گے اب کسے
تجھ کو ہی کر رہے تھے، تیری کال آ گئی
سکرین شارٹ لے کے دکھائیں گے اب کسے
دیکھےگا کون اب تِری زلفوں کی چھاؤں کو
چھت پر اشارہ کر کے بلائیں گے اب کسے
نشیلی سرد راتوں میں صنم جب پاس ہوتا ہے
گزرتے وقت کا پھر کب کسے احساس ہوتا ہے
تِری بانہوں کے حلقے میں مجھے کب ہوش رہتا ہے
محبت کا حسین جذبہ بہت حساس ہوتا ہے
مِری بانہیں ترستی ہیں ملن کی اس گھڑی کو جب
تو پھر تیرے نہ ہونے کا بہت اِحساس ہوتا ہے
چاک دامن کو ہم نے سِیا ہی نہیں
زندگی تُو نے دھاگا دیا ہی نہیں
جو مِرے ساتھ شانہ بشانہ رہا
ایسے بچھڑا کہ پھر وہ ملا ہی نہیں
اس نے غم بھی تو مجھ سے ہیں واپس لیے
کوئی جینے کا اب آسرا ہی نہیں
بِن تیرے دل میں اب کوئی آباد تک نہیں
میرے لبوں پہ بھی کوئی فریاد تک نہیں
پوچھا ہے آج مجھ سے کسی نے جو تیرا نام
حیرت کی بات ہے کہ مجھے یاد تک نہیں
💢بنیاد ایک کفر کا فتوٰی ہمارا فن💢
اپنے تو پاس اور کوئی ایجاد تک نہیں
جی اگر سکتے نہیں، ساتھ تو مر سکتے ہیں
ہم محبت میں یہ اک کام تو کر سکتے ہیں
عشق میں قید کا قائل تو نہیں ہوں میں بھی
آپ چاہیں تو محبت سے مُکر سکتے ہیں
شوق سے آؤغمو! جب تک کہ ٹھکانہ نہ ملے
تب تلک آپ مِرے گھر میں ٹہر سکتے ہیں
کسی پر جان دیتے تھے کسی پر ہم بھی مرتے تھے
محبت نام ہے جس کا کبھی یہ ہم بھی کرتے تھے
وہ جب بھی زلفِ برہم کو سجاتا تو چلا آتا
اداسی کو لپیٹے ہم بھی سارا دن سنورتے تھے
اُسے بھی مل گیا کوئی مجھے بھی مل ہی جائے گا
ستم یہ ہے کہ دونوں ہی وفا کی بات کرتے تھے
ہم سے تکرار کرو ہو، تم بھی
اور لگا تار کرو ہو، تم بھی
عشق کی راہ پہ لا کے مجھ کو
خود تو انکار کرو ہو، تم بھی
کیا کہا؟ ہم بھی تِرے اپنے ہیں
بھولا نہیں اگر تو بھلا دینا چاہیے
اب اس کا نقش دل سے مٹا دینا چاہیے
اس نے لگا لیے ہیں نئے پیڑ باغ میں
بوڑھا شجر وہاں سے ہٹا دینا چاہیے
کردار سےگئے تو کہانی ہوئی تمام
اب تو نظر سے اپنی گرا دینا چاہیے
کوئی صحرا یا دریا کا کنارہ ڈھونڈ لیتے ہیں
چلو اب ہم بھی جینے کا سہارا ڈھونڈ لیتے ہیں
میں جتنے گھر بھی بدلوں فرق پڑنا ہی نہیں مجھ کو
کہ غم مجھ سے یوں واقف ہیں دوبارہ ڈھونڈ لیتے ہیں
نہیں گر تم نے توڑا تو تعلق کیسے ٹوٹا ہے
قصور اس میں تمہارا تھا، ہمارا ڈھونڈ لیتے ہیں
وحشت نہیں رہی تو سکوں بھی نہیں رہا
اب زندگی میں کوئی جنوں بھی نہیں رہا
میرے بھی دل کا حال فسردہ ہے اِن دنوں
اور اُس کی آنکھ میں وہ فسوں بھی نہیں رہا
دھڑکے ترے لیے یہ بھی ممکن نہیں ھے دل
اب تو مِری رگوں میں وہ خوں بھی نہیں رہا
خسارہ در خسارہ کر رہے ہیں
محبت ہم دوبارہ کر رہے ہیں
ابھی دریا میں اترے ہی کہاں ہیں
ابھی سے سب کنارہ کر رہے ہیں
ہمیں وہ چھوڑ کر اپنائیں کس کو
یہی تو استخارہ کر رہے ہیں
رونے کا حال لکھ نہ رُلانے کا حال لکھ
لکھنا ہے گر تجھے تو زمانے کا حال لکھ
زنداں میں فاقہ کش یہ گزارے گا زندگی
انصاف دیکھ روٹی چُرانے کا حال لکھ
پہلے تو چھین منہ کے نوِالے غریب کے
پھر ان کی بھوک تُو ہی مٹانے کا حال لکھ
پانی سمجھ کے جس کا کیا انتخاب تھا
دریا نہیں تھا وہ تو مکمل سراب تھا
دینا نہیں تھا مجھ کو سو خاموش ہی رہا
ورنہ ہر اک سوال کا فر فر جواب تھا
دیکھو نا ہو گئی ہے محبت کہا نہ تھا
تم نے تو لاکھ اس سے کیا اجتناب تھا
مقدر میں جو لکھے جا چکے تھے
وہ سارے غم مجھے سمجھا چکےتھے
تِری محفل میں جب پہنچے ستمگر
وہاں تو غم بھی بانٹے جا چکے تھے
تِری آنکھیں بلا کی فتنہ گر ہیں
تجھے پہلے بھی یہ بتلا چکے تھے