Sunday, 20 February 2022

میں دریا ہوں محبت کا بہا کر لے ہی جاؤں گا

 میں دریا ہوں محبت کا بہا کر لے ہی جاؤں گا

مِری منزل الگ ہو گی میں رستہ خود بناؤں گا

سمجھتے ہو تمھارے بِن نہیں گزرے گی اب اپنی

تمہارے بِن میں دنیا میں تمہیں جی کر دکھاؤں گا

جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا دن نہیں ہوتا

غلط فہمی تمہاری ہے کہ کچھ بھی کر نہ پاؤں گا

چلا جائے جِسے جانا ہے بےشک چھوڑ کر مجھ کو

نہ اب میں ہاتھ جوڑوں گا نہ پھر اس کو مناؤں گا

تجھے بھی اک نہ اک دن تو غموں سے ہار جانا ہے

کہاں تک تیرے ناز اے زندگی میں اب اٹھاؤں گا

میں اپنے غم چھپا لوں گا تمہاری بزم میں آ کر

کسی سے کچھ کہوں گا اور نہ حالِ دل سناؤں گا

اکیلے ہی میں سہہ لوں گا جو دکھ بھی ہے جدائی کا

مگر تم سوچتے ہو گے تمہیں آ کر بتاؤں گا

تمہارے شہر میں آ کر اِنہی گلیوں سے گزروں گا

تمہیں پھر سے خبر ہو گی تمہیں اِیسے ستاؤں گا

نظر انداز کرنے کا سلیقہ جانتا ہوں میں

تُو صدیوں یاد رکھے گا تجھے ایسے بھلاؤں گا


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment