سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا
شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا
اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر
یاں تو آواز لگانا مِرا بے کار گیا
سرکشو شکر کرو جائے شکایت نہیں دار
سر گیا،۔ بار گیا،۔ طعنۂ اغیار گیا
سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا
شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا
اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر
یاں تو آواز لگانا مِرا بے کار گیا
سرکشو شکر کرو جائے شکایت نہیں دار
سر گیا،۔ بار گیا،۔ طعنۂ اغیار گیا
اے بے گُنہی گواہ رہنا
علی افتخار پانیوں کا شناور ہے
دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے
کھلنڈرے لڑکوں کی طرح شرارت سے ہنستا
رُوداں کے مجسمے کی طرح سیدھا کھڑا
اپنے ترشے ہوئے رگ پٹھوں کو سورج کے مقابل کیے
رنگ محفل سے فزوں تر مِری حیرانی ہے
پیرہن باعث عزت ہے نہ عریانی ہے
نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب
آنکھ لگتی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے
اور کیا ہے تِری دنیا میں سوائے من و تو
منت غیر کی ذلت ہے جہاں بانی ہے
دوست پر فرد جرم
علی افتخار
تم ایک اچھے شخص نہیں ہو
تنہائی میں بہت سا پھیلاؤ ہے
اور بے بسی کے یوں دو ٹوک ہونے میں
وحشت ہوتی ہے
میں دُکھ کے پھیلے ہوئے پتھر پر
چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی
زمیں پر برگِ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا
ابھی اک نسبتِ دار و رسن کا قرض باقی ہے
فرازِ جاہ و منصب سے اتر آیا تو یاد آیا
بھلایا گردش ایام نے دستِ پدر یوں تو
مگر جب موڑ کوئی پر خطر آیا تو یاد آیا
بر سر باد ہوا اپنا ٹھکانہ سرِ راہ
کام آیا مِرا آواز لگانا سر راہ
دوستو فرطِ جنوں راہ بدلتا ہے مِری
کس نے چاہا تھا تمہیں چھوڑ کے جانا سر راہ
دل ملاقات کا خواہاں ہو تو خاک اڑتی ہے
بچ کے چلتا ہوں تو ملتا ہے زمانا سر راہ