Showing posts with label علی جعفری. Show all posts
Showing posts with label علی جعفری. Show all posts

Saturday, 25 March 2023

سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا

 سر بچے یا نہ بچے طرۂ دستار گیا

شاہ کج فہم کو شوق دو سری مار گیا

اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر

یاں تو آواز لگانا مِرا بے کار گیا

سرکشو شکر کرو جائے شکایت نہیں دار

سر گیا،۔ بار گیا،۔ طعنۂ اغیار گیا

Monday, 8 February 2021

علی افتخار پانیوں کا شناور ہے

 اے بے گُنہی گواہ رہنا


علی افتخار پانیوں کا شناور ہے

دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے

کھلنڈرے لڑکوں کی طرح شرارت سے ہنستا

رُوداں کے مجسمے کی طرح سیدھا کھڑا

اپنے ترشے ہوئے رگ پٹھوں کو سورج کے مقابل کیے

Saturday, 6 February 2021

رنگ محفل سے فزوں تر مری حیرانی ہے

 رنگ محفل سے فزوں تر مِری حیرانی ہے

پیرہن باعث عزت ہے نہ عریانی ہے

نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب

آنکھ لگتی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے

اور کیا ہے تِری دنیا میں سوائے من و تو

منت غیر کی ذلت ہے جہاں بانی ہے

Friday, 5 February 2021

علی افتخار تم ایک اچھے شخص نہیں ہو

 دوست پر فرد جرم


علی افتخار

تم ایک اچھے شخص نہیں ہو

تنہائی میں بہت سا پھیلاؤ ہے

اور بے بسی کے یوں دو ٹوک ہونے میں

وحشت ہوتی ہے

میں دُکھ کے پھیلے ہوئے پتھر پر

Thursday, 4 February 2021

زمیں پر برگ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا

چمن میں وہ فراموشی کا موسم تھا میں خود کو بھی

زمیں پر برگِ آوارہ نظر آیا تو یاد آیا

ابھی اک نسبتِ دار و رسن کا قرض باقی ہے

فرازِ جاہ و منصب سے اتر آیا تو یاد آیا

بھلایا گردش ایام نے دستِ پدر یوں تو

مگر جب موڑ کوئی پر خطر آیا تو یاد آیا

Monday, 1 February 2021

بر سر باد ہوا اپنا ٹھکانہ سر راہ

 بر سر باد ہوا اپنا ٹھکانہ سرِ راہ

کام آیا مِرا آواز لگانا سر راہ

دوستو فرطِ جنوں راہ بدلتا ہے مِری

کس نے چاہا تھا تمہیں چھوڑ کے جانا سر راہ

دل ملاقات کا خواہاں ہو تو خاک اڑتی ہے

بچ کے چلتا ہوں تو ملتا ہے زمانا سر راہ