رنگ محفل سے فزوں تر مِری حیرانی ہے
پیرہن باعث عزت ہے نہ عریانی ہے
نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سر خواب
آنکھ لگتی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے
اور کیا ہے تِری دنیا میں سوائے من و تو
منت غیر کی ذلت ہے جہاں بانی ہے
چُوم لو اس کو اسی عالم مدہوشی میں
آخر خواب وہی بے سر و سامنی ہے
اپنے ساماں میں تصاویر بُتاں ہیں یہ خطوط
کچھ لکیریں ہیں، کفِ دست ہے، پیشانی ہے
علی افتخار جعفری
No comments:
Post a Comment