Saturday, 6 February 2021

ہر سمت غموں کا ہے جھمیلا اسے کہنا

ہر سمت غموں کا ہے جھمیلا، اُسے کہنا

اب گاؤں میں لگتا نہیں وہ میلہ، اسے کہنا

باغوں میں کہیں جھُولے نہ سَکھیاں نَے ترِنجن

آباد ہے چوپال نہ بیلا، اسے کہنا

اترے کبھی دلجوئی کو اب خود وہ زمیں پر

انسان ہے دنیا میں اکیلا، اسے کہنا

لے جائے گا اک روز مجھے ساتھ بہا کر

آنکھوں میں تو یادوں کا ہے ریلا اسے کہنا

خوشیوں کا تو راجا یہ کبھی قصر تھا لیکن

اب دل ہے غموں کا کوئی ٹھیلہ اسے کہنا 


احمد رضا راجا

No comments:

Post a Comment