Showing posts with label اشرف عدیل. Show all posts
Showing posts with label اشرف عدیل. Show all posts

Monday, 13 July 2026

چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے

 پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے

سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے

لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر

چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے

وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے

گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے

Monday, 27 April 2026

گرمی سفر کی رخت سفر سے نکل گئی

 گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی

ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی

دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا

اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی

اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا

اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی

Sunday, 26 April 2026

گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

 گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے

ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا

وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے

کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں

کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے

Saturday, 25 April 2026

چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

 چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے

جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے

یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے

ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو

یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے