پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے
سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے
لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر
چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے
وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے
گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے
پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے
سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے
لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر
چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے
وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے
گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے
گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی
ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی
دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا
اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی
اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا
اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی
گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے
مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے
ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا
وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے
کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں
کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے
چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے
تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے
جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے
یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے
ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو
یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے