شامِ الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر
روتا رہا ہے یہ دل پہروں مچل مچل کر
منزل کی جستجو میں پہنچے کہاں کہاں ہم
دیکھا کیے تماشہ رستے بدل بدل کر
شہرِ وفا میں ہم نے سب کچھ لٹا دیا ہے
یہ بات ان سے کہنا لوگو سنبھل سنبھل کر
شامِ الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر
روتا رہا ہے یہ دل پہروں مچل مچل کر
منزل کی جستجو میں پہنچے کہاں کہاں ہم
دیکھا کیے تماشہ رستے بدل بدل کر
شہرِ وفا میں ہم نے سب کچھ لٹا دیا ہے
یہ بات ان سے کہنا لوگو سنبھل سنبھل کر
نہ پوچھ اے مِرے غم خوار کیا تمنا تھی
دلِ حزیں میں بھی آباد ایک دنیا تھی
ہر اک نظر تھی ہمارے ہی چاک داماں پر
ہر ایک ساعت غم جیسے اک تماشا تھی
ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے
جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی
ہمارا نام پکارے،۔ ہمارے گھر آئے
یہ دل تلاش میں جس کی ہے وہ نظر آئے
نہ جانے شہرِ نگاراں پہ کیا گزرتی ہے
فضائے دشتِ الم! کوئی تو خبر آئے
نشان بھول گئی ہوں میں راہِ منزل کا
خدا کرے کہ مجھے یاد رہگزر آئے
کیا ایسا ہو سکتا ہے
وہ پھر سے مل جائے مجھ کو
کیا ایسا ہو سکتا ہے
روز و شب، ہر ساعت، ہر دم
اس کو سوچتی رہتی ہوں
میرے بہتے اشکوں کو
یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا
اور تمہیں دل سے بھُلا دیں یہ گوارا بھی نہ تھا
ہر طرف تپتی ہوئی دُھوپ تھی اے عمر رواں
دور تک دشت الم میں کوئی سایا بھی نہ تھا
مشعل جاں بھی جلائی نہ گئی تھی ہم سے
اور پلکوں پہ شب غم کوئی تارا بھی نہ تھا
دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے
یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے
ظلمتِ شب میں ہے روپوش نشانِ منزل
اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے
دل کا ہر زخم تِری یاد کا اک پھول بنے
میرے پیراہنِ جاں سے تِری خوشبو آئے