Showing posts with label گلنار آفرین. Show all posts
Showing posts with label گلنار آفرین. Show all posts

Wednesday, 15 March 2023

شام الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر

 شامِ الم بھی گزری پہلو بدل بدل کر 

روتا رہا ہے یہ دل پہروں مچل مچل کر 

منزل کی جستجو میں پہنچے کہاں کہاں ہم 

دیکھا کیے تماشہ رستے بدل بدل کر 

شہرِ وفا میں ہم نے سب کچھ لٹا دیا ہے 

یہ بات ان سے کہنا لوگو سنبھل سنبھل کر 

Wednesday, 30 June 2021

نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی

 نہ پوچھ اے مِرے غم خوار کیا تمنا تھی

دلِ حزیں میں بھی آباد ایک دنیا تھی

ہر اک نظر تھی ہمارے ہی چاک داماں پر

ہر ایک ساعت غم جیسے اک تماشا تھی

ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے

جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی

Sunday, 27 June 2021

ہمارا نام پکارے ہمارے گھر آئے

 ہمارا نام پکارے،۔ ہمارے گھر آئے

یہ دل تلاش میں جس کی ہے وہ نظر آئے

نہ جانے شہرِ نگاراں پہ کیا گزرتی ہے

فضائے دشتِ الم! کوئی تو خبر آئے

نشان بھول گئی ہوں میں راہِ منزل کا

خدا کرے کہ مجھے یاد رہگزر آئے

Friday, 25 June 2021

وہ پھر سے مل جائے مجھ کو کیا ایسا ہو سکتا ہے

 کیا ایسا ہو سکتا ہے


وہ پھر سے مل جائے مجھ کو

کیا ایسا ہو سکتا ہے

روز و شب، ہر ساعت، ہر دم

اس کو سوچتی رہتی ہوں

میرے بہتے اشکوں کو

یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا

 یاد کرنے کا تمہیں کوئی ارادہ بھی نہ تھا

اور تمہیں دل سے بھُلا دیں یہ گوارا بھی نہ تھا

ہر طرف تپتی ہوئی دُھوپ تھی اے عمر رواں

دور تک دشت الم میں کوئی سایا بھی نہ تھا

مشعل جاں بھی جلائی نہ گئی تھی ہم سے

اور پلکوں پہ شب غم کوئی تارا بھی نہ تھا

Thursday, 17 June 2021

دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے

 دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے

یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے

ظلمتِ شب میں ہے روپوش نشانِ منزل

اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے

دل کا ہر زخم تِری یاد کا اک پھول بنے

میرے پیراہنِ جاں سے تِری خوشبو آئے