Showing posts with label جلیس نجیب آبادی. Show all posts
Showing posts with label جلیس نجیب آبادی. Show all posts

Friday, 12 September 2025

اداس کیوں ہے کوئی آسرا نہیں ہے کیا

 اداس کیوں ہے کوئی آسرا نہیں ہے کیا

اگر کوئی بھی نہیں ہے خدا نہیں ہے کیا

یہ بے گناہوں کی لاشیں سوال کرتی ہیں

شرافتوں کا زمانہ رہا نہیں ہے کیا

کھلے ہیں ارض وطن پر محبتوں کے گلاب

یہ خواب بار ہا دیکھا ہوا نہیں ہے کیا

Thursday, 5 June 2025

مفلسوں کو بھی مدینے میں بلا لے آقا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مفلسوں کو بھی مدینے میں بلا لے آقا

یاد کرتے ہیں ترے چاہنے والے آقاﷺ

تیرے ہی حسن کا پرتو ہیں مہ و مہر و نجوم

دونوں عالم میں تِرے دم سے اجالے آقا

آسماں دور، زمیں تنگ ہوئی جاتی ہے

ان عذابوں سے ہمیں کون نکالے آقاﷺ

Saturday, 17 April 2021

دل میں جو خلا تھا بھر گیا کیا

دل میں جو خلا تھا بھر گیا کیا؟

سیلابِ جنوں اُتر گیا کیا؟

آنکھوں میں خواب جل رہے ہیں

بارش کا سمے گُزر گیا کیا؟

شہروں میں رتجگے بہت ہیں

ذہنوں کا سکوں بکھر گیا کیا؟

آرام کی نیند سونے والو

اندیشۂ ہمسفر گیا کیا؟

ہمسائے میں بھُوک جاگتی ہے

میرا بھی ضمیر مر گیا کیا؟


جلیس نجیب آبادی

اسلام الدین

Tuesday, 13 April 2021

وقت سوچوں کی مسافت کا صلہ بھی دے گا

وقت سوچوں کی مسافت کا صِلہ بھی دے گا

دشتِ اِمکاں کسی منزل کا پتا بھی دے گا

جس نے تاریک گُپھاؤں کا سفر بخشا ہے

وہی افکار و تخیّل کو ضیا بھی دے گا

میں بھلا کون کہ اندیشۂ فردا میں گُھلوں

کھیتیاں جس نے اُگائی ہیں گھٹا بھی دے گا