اداس کیوں ہے کوئی آسرا نہیں ہے کیا
اگر کوئی بھی نہیں ہے خدا نہیں ہے کیا
یہ بے گناہوں کی لاشیں سوال کرتی ہیں
شرافتوں کا زمانہ رہا نہیں ہے کیا
کھلے ہیں ارض وطن پر محبتوں کے گلاب
یہ خواب بار ہا دیکھا ہوا نہیں ہے کیا
اداس کیوں ہے کوئی آسرا نہیں ہے کیا
اگر کوئی بھی نہیں ہے خدا نہیں ہے کیا
یہ بے گناہوں کی لاشیں سوال کرتی ہیں
شرافتوں کا زمانہ رہا نہیں ہے کیا
کھلے ہیں ارض وطن پر محبتوں کے گلاب
یہ خواب بار ہا دیکھا ہوا نہیں ہے کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مفلسوں کو بھی مدینے میں بلا لے آقا
یاد کرتے ہیں ترے چاہنے والے آقاﷺ
تیرے ہی حسن کا پرتو ہیں مہ و مہر و نجوم
دونوں عالم میں تِرے دم سے اجالے آقا
آسماں دور، زمیں تنگ ہوئی جاتی ہے
ان عذابوں سے ہمیں کون نکالے آقاﷺ
دل میں جو خلا تھا بھر گیا کیا؟
سیلابِ جنوں اُتر گیا کیا؟
آنکھوں میں خواب جل رہے ہیں
بارش کا سمے گُزر گیا کیا؟
شہروں میں رتجگے بہت ہیں
ذہنوں کا سکوں بکھر گیا کیا؟
آرام کی نیند سونے والو
اندیشۂ ہمسفر گیا کیا؟
ہمسائے میں بھُوک جاگتی ہے
میرا بھی ضمیر مر گیا کیا؟
جلیس نجیب آبادی
اسلام الدین
وقت سوچوں کی مسافت کا صِلہ بھی دے گا
دشتِ اِمکاں کسی منزل کا پتا بھی دے گا
جس نے تاریک گُپھاؤں کا سفر بخشا ہے
وہی افکار و تخیّل کو ضیا بھی دے گا
میں بھلا کون کہ اندیشۂ فردا میں گُھلوں
کھیتیاں جس نے اُگائی ہیں گھٹا بھی دے گا