Tuesday, 13 April 2021

وقت سوچوں کی مسافت کا صلہ بھی دے گا

وقت سوچوں کی مسافت کا صِلہ بھی دے گا

دشتِ اِمکاں کسی منزل کا پتا بھی دے گا

جس نے تاریک گُپھاؤں کا سفر بخشا ہے

وہی افکار و تخیّل کو ضیا بھی دے گا

میں بھلا کون کہ اندیشۂ فردا میں گُھلوں

کھیتیاں جس نے اُگائی ہیں گھٹا بھی دے گا

💢اس توقع پہ قدم ہو گئے پتھر شاید💢

اک دریچہ مجھے دِھیرے سے صدا بھی دے گا

ہائے وہ شخص کہ جی بھر کے ستائے گا مجھے

اور پھر چین سے سونے کی دُعا بھی دے گا

مجھ کو جُھٹلائے گا، تردید کرے گا میری

دوست ہے جُرمِ رفاقت کی سزا بھی دے گا


جلیس نجیب آبادی

اسلام الدین

No comments:

Post a Comment