Showing posts with label اشرف جاوید. Show all posts
Showing posts with label اشرف جاوید. Show all posts

Wednesday, 13 August 2025

زر خاک شہر جمال دے تری نعت ہو کوئی بات ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زرِ خاکِ شہرِ جمال دے، تری نعت ہو کوئی بات ہو

سحر اذانِ بلال دے، تری نعت ہو کوئی بات ہو

گل شامِ غم کو نہال کر مجھے لمحہ لمحہ بحال کر

درِ صبحِ درد اجال دے، تری نعت ہو کوئی بات ہو

کبھی پتھروں کو تراشنا،۔ کبھی اپنا آپ تلاشنا

کبھی چشم و لب خد و خال دے، تری نعت ہو کوئی بات ہو

Monday, 6 June 2022

جیون رت کا زرد سفر

 جیون رُت کا زرد سفر


جسم

شکن آلود

تھکن کی چادر اوڑھے

رات کو چپ کی

نرم مسہری

Monday, 2 May 2022

گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

 گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

صبح سے ہاتھ ملاؤں گا چلا جاؤں گا

اب تو چلنا ہے کسی اور ہی رفتار کے ساتھ

جسم بستر پہ گراؤں گا چلا جاؤں گا

آبلہ پائی ہے رسوائی ہے رات آئی ہے

دامن ایک اک سے چھڑاؤں گا چلا جاؤں گا

Friday, 30 April 2021

محصور ہوئے لوگ قیامت کی گھڑی ہے

 محصور ہوئے لوگ، قیامت کی گھڑی ہے

ظالم کو، مگر ظلم کمانے کی پڑی ہے

گلزاروں، چناروں سے دھواں اُٹھنے لگا ہے

اس بار لگی آگ میں شدت ہی بڑی ہے

اُترا نہیں مُنصف کا ابھی تخت زمیں پر

خلقت ہے کہ میدان میں دم سادھے کھڑی ہے

Wednesday, 31 March 2021

بسیط دشت کی حرمت کو بام و در دے دے

 بسیط دشت کی حُرمت کو بام و در دے دے

مِرے خدایا مجھے بھی تو ایک گھر دے دے

بشارتوں کے صحیفے اُتار آنکھوں پر

طلسمِ شب کے کلس توڑ کر سحر دے دے

میں تیرا نام لکھوں گا رِدائے کعبہ پر

قلم نصیب ہے، الفاظ معتبر دے دے

Thursday, 25 March 2021

کمال ضبط حرف معتبر تک آ گیا ہے

 کمالِ ضبط حرفِ معتبر تک آ گیا ہے

لہو بہتا ہوا قاتل کے گھر تک آ گیا ہے

یہ کیا آسیب سا دیوار و در تک آ گیا ہے

کہ سارا شہر اُٹھ کر رہگزر تک آ گیا ہے

عجب اک تشنگی سی لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے

غبارِ آب رفتہ رفتہ سر تک آ گیا ہے

سانس بہاریں آنکھ اجالے تیرے ہیں

 سانس بہاریں آنکھ اجالے تیرے ہیں

میرے لہو میں سارے حوالے تیرے ہیں

زخم ہیں میرے اپنے، مرہم تیرا ہے

ٹھوکر، آس، سنبھالے تیرے ہیں

کشتی تیری، دریا، طوفاں تیرا ہے

طوفانوں سے لڑنے والے تیرے ہیں

تئیس 23 مارچ اذان صبح نیاز

تئیس 23 مارچ اذانِ صبحِ نیاز


وہ کیا نوا تھی

کہ جس کی لَو سے

اُفق روشنی کے منظر سنور گئے تھے

بہار آثار لحن کیا تھا؟

کہ خُشک شاخوں کے زرد چہرے

گُلاب رنگوں سے دُھل گئے تھے

Wednesday, 24 March 2021

بدل کے دیکھ لیے زاویے اڑانوں کے

 بدل کے دیکھ لیے زاویے اُڑانوں کے

خِرد سے طے نہ ہوئے فاصلے زمانوں کے

سمندروں کے تموج، نہنگ، وسعتیں، خوف

کہاں پہ حوصلے ٹوٹے ہیں بادبانوں کے

فلک سے روز اُترتے ہیں روشنی کے خطوط

مگر نہ چمکے مقدر غریب خانوں کے