Thursday, 25 March 2021

تئیس 23 مارچ اذان صبح نیاز

تئیس 23 مارچ اذانِ صبحِ نیاز


وہ کیا نوا تھی

کہ جس کی لَو سے

اُفق روشنی کے منظر سنور گئے تھے

بہار آثار لحن کیا تھا؟

کہ خُشک شاخوں کے زرد چہرے

گُلاب رنگوں سے دُھل گئے تھے

کلی کلی کے گداز شانوں پر خوشبوؤں کے لطیف پرچم

نئے سویروں سے آشنائی کو کھل گئے تھے

وہی نوا ڈوبتی شبوں میں

اذانِ صبحِ نیاز بن کر

ہوا کے ہونٹوں پہ کھیلتی جب دلوں میں اُتری

تو جسم کی سرحدوں کے اُس پار منجمد تیرگی کی شاخوں پر

روشنی کے گُلاب اُبھرے

کِرن کِرن آفتاب اُبھرے


اشرف جاوید

No comments:

Post a Comment