Thursday, 25 March 2021

جو ایک عمر ہنسا تھا مجھے ستاتے ہوئے

 جو ایک عمر ہنسا تھا مجھے ستاتے ہوئے 

وہ رو پڑا ہے مِری داستاں سناتے ہوئے 

کسی کے پیار کی یہ آخری نشانی ہے 

ہوا نے یہ بھی نہ سوچا دِیا بُجھاتے ہوئے 

تمہیں بھی وقت کی گردش نِگل نہ جائے کہیں 

ذرا خیال ہو میری ہنسی اُڑاتے ہوئے 

وہ شخص جس کا تعلق نہ تھا کوئی مجھ سے 

یہ کیا کہ رونے لگا مجھ سے دُور جاتے ہوئے 

نگاہِ ناز کی فرما روائیاں توبہ 

وہ مُسکرا بھی رہی تھیں سزا سناتے ہوئے

علاج اپنے اندھیروں کا آپ خود کیجے 

کُمہار تھک سے گئے ہیں دِیا بناتے ہوئے 

گھُلا ہے درد فضاؤں میں اس طرح صادق 

کہ جان جاتی ہے اک بار مُسکراتے ہوئے


اہتمام صادق

No comments:

Post a Comment