Showing posts with label نصراللہ حارث. Show all posts
Showing posts with label نصراللہ حارث. Show all posts

Sunday, 13 September 2026

تھکن سے چور بے کنار سو گئی

 تھکن سے چُور بے کنار سو گئی

ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی

اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر

یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی

لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی

وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی

Monday, 16 March 2026

قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا

 قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا

کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا

اچھل رہا تھا کناروں سے نیند کا دریا

سو میں نے خواب کا رخ اور سمت موڑ دیا

ہوا نے ہاتھ نہ تھاما مِری صداؤں کا

تو میں طیش میں آ کر چراغ توڑ دیا

Saturday, 7 June 2025

راستے کو یہی بتا رہا ہوں

 راستے کو یہی بتا رہا ہوں

میں کسی اور سمت جا رہا ہوں

خود کو مسند پہ فرض کرتے ہوئے

آخری فیصلہ سنا رہا ہوں

ایک دیوار گرنے والی ہے

ایک دیوار ابھی اٹھا رہا ہوں

Tuesday, 11 April 2023

دریا تیرے سمت نما کی ایسی تیسی

دریا رستہ بھول گیا


سمت نما کی سوئی شاید مشرق مغرب گھوم گئی ہے

دریا رستہ بھول گیا ہے

خاک میں لت پت، پاگل دریا بستی بستی گھوم رہا ہے

دیوار نے انگلیاں رکھ کر اپنے نتھنے بھینچ لیے ہیں

دروازوں کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی ہیں

بستی کی دہلیز پہ بچے آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں

Friday, 5 March 2021

بھلے کہانی کا ماحول اختلاف میں ہے

بھلے کہانی کا ماحول اختلاف میں ہے

پری سی کوئی مِری خاک کے غلاف میں ہے

عجیب لَو ہے سیہ دائرے بناتی ہوئی

چراغ جیسی کوئی شے مِرے طواف میں ہے

اچھال دی ہے مِری سمت روشنی اس نے

اور اب یہ گیند مِری بے بسی کے ہاف میں ہے