تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا
کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا
اچھل رہا تھا کناروں سے نیند کا دریا
سو میں نے خواب کا رخ اور سمت موڑ دیا
ہوا نے ہاتھ نہ تھاما مِری صداؤں کا
تو میں طیش میں آ کر چراغ توڑ دیا
راستے کو یہی بتا رہا ہوں
میں کسی اور سمت جا رہا ہوں
خود کو مسند پہ فرض کرتے ہوئے
آخری فیصلہ سنا رہا ہوں
ایک دیوار گرنے والی ہے
ایک دیوار ابھی اٹھا رہا ہوں
دریا رستہ بھول گیا
سمت نما کی سوئی شاید مشرق مغرب گھوم گئی ہے
دریا رستہ بھول گیا ہے
خاک میں لت پت، پاگل دریا بستی بستی گھوم رہا ہے
دیوار نے انگلیاں رکھ کر اپنے نتھنے بھینچ لیے ہیں
دروازوں کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی ہیں
بستی کی دہلیز پہ بچے آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں
بھلے کہانی کا ماحول اختلاف میں ہے
پری سی کوئی مِری خاک کے غلاف میں ہے
عجیب لَو ہے سیہ دائرے بناتی ہوئی
چراغ جیسی کوئی شے مِرے طواف میں ہے
اچھال دی ہے مِری سمت روشنی اس نے
اور اب یہ گیند مِری بے بسی کے ہاف میں ہے