بھلے کہانی کا ماحول اختلاف میں ہے
پری سی کوئی مِری خاک کے غلاف میں ہے
عجیب لَو ہے سیہ دائرے بناتی ہوئی
چراغ جیسی کوئی شے مِرے طواف میں ہے
اچھال دی ہے مِری سمت روشنی اس نے
اور اب یہ گیند مِری بے بسی کے ہاف میں ہے
سفید جھنڈیاں رہتی ہیں سرنگوں مجھ میں
مگر جو لطف اصولوں سے انحراف میں ہے
میں روز دستکیں دیتا ہوں آنکھ کے در پر
بتایا جاتا ہے اک خواب اعتکاف میں ہے
بدلتی رہتی ہے تاریخ بند کمروں میں
پرانی صبح نئے دن کے اعتراف میں ہے
نصراللہ حارث
No comments:
Post a Comment