Friday, 5 March 2021

آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں

 آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں

راہ میں غم کے ماروں کی آوازیں تھیں

دور خلا میں ایک سیاہی پھیلی تھی

بستی میں انگاروں کی آوازیں تھیں

آنکھوں میں خوابوں نے شور مچایا تھا

آسمان پر تاروں کی آوازیں تھیں

گھر کے باہر آوازیں تھیں رستوں کی

اور گھر میں دیواروں کی آوازیں تھیں

اب مجھ میں اک سناٹے کی چیخیں ہے

پہلے کچھ بیماروں کی آوازیں تھیں

اس بستی پہ مجبوری کا سایہ تھا

گھر گھر میں بازاروں کی آوازیں تھیں


عین عرفان

No comments:

Post a Comment