ہر ایک شخص کے وجدان سے خطاب کرے
نئے لباس کی خواہش نیا بدن ڈھونڈے
سمندروں میں اترتے چلے گئے، لیکن
کثافتوں کے جراثیم ساتھ ساتھ رہے
نہ جانے کون غم کائنات سے چھپ کر
مِرے وجود میں بیٹھا ہے کنڈلی مارے
ہر ایک شخص کے وجدان سے خطاب کرے
نئے لباس کی خواہش نیا بدن ڈھونڈے
سمندروں میں اترتے چلے گئے، لیکن
کثافتوں کے جراثیم ساتھ ساتھ رہے
نہ جانے کون غم کائنات سے چھپ کر
مِرے وجود میں بیٹھا ہے کنڈلی مارے
اندیشوں کا زہر پیا ہے
مشکل سے جینا سیکھا ہے
وقت نے ایسا غم بخشا ہے
صحراؤں میں جی لگتا ہے
دامن دامن خون کے دھبے
آخر کس کا قتل ہوا ہے؟
اپنے بدن کو چھوڑ کے پچھتاؤ گے میاں
باہر ہوا ہے تیز، بکھر جاؤ گے میاں
خود کو لپیٹے رہنا، زمانہ خراب ہے
ظاہر کِیا تو لُوٹ لیے جاؤ گے میاں
جُھوٹوں کی بارگاہ بڑی معتبر سہی
لیکن پرائے شہر میں کھو جاؤ گے میاں
دور تک بس خون کے ٹھہرے ہوئے دریا ملے
مدتوں جاگی ہوئی آنکھوں کو دیکھا رو پڑے
احتراماً زندگی کو منہ لگانا ہی پڑا
ورنہ ہم اور زندگی کا زہر توبہ کیجیے
اپنے کاندھوں پر لیے اپنی کئی شخصیتیں
رات بھر آنکھوں کے جنگل میں بھٹکتے ہی رہے
شور سے بچ کر سہما سہما بیٹھا ہے چپ چاپ
ہنگاموں کا بانی دیکھو، کیسا ہے چپ چاپ
اپنے من کے پاگل پن کو اور کہاں لے جائیں
دور دور تک ریت کا صحرا لیٹا ہے چپ چاپ
انگ انگ میں لمس کی خوشبو پینگیں لیتی ہے
انگ انگ میں جیسے کوئی بیٹھا ہے چپ چاپ