Showing posts with label انتخاب سید. Show all posts
Showing posts with label انتخاب سید. Show all posts

Friday, 23 September 2022

ہر ایک شخص کے وجدان سے خطاب کرے

 ہر ایک شخص کے وجدان سے خطاب کرے

نئے لباس کی خواہش نیا بدن ڈھونڈے

سمندروں میں اترتے چلے گئے، لیکن

کثافتوں کے جراثیم ساتھ ساتھ رہے

نہ جانے کون غم کائنات سے چھپ کر

مِرے وجود میں بیٹھا ہے کنڈلی مارے

Sunday, 11 September 2022

اندیشوں کا زہر پیا ہے

 اندیشوں کا زہر پیا ہے

مشکل سے جینا سیکھا ہے

وقت نے ایسا غم بخشا ہے

صحراؤں میں جی لگتا ہے

دامن دامن خون کے دھبے

آخر کس کا قتل ہوا ہے؟

Sunday, 4 September 2022

اپنے بدن کو چھوڑ کے پچھتاؤ گے میاں

 اپنے بدن کو چھوڑ کے پچھتاؤ گے میاں

باہر ہوا ہے تیز، بکھر جاؤ گے میاں

خود کو لپیٹے رہنا، زمانہ خراب ہے

ظاہر کِیا تو لُوٹ لیے جاؤ گے میاں

جُھوٹوں کی بارگاہ بڑی معتبر سہی

لیکن پرائے شہر میں کھو جاؤ گے میاں

Friday, 2 September 2022

دور تک بس خون کے ٹھہرے ہوئے دریا ملے

 دور تک بس خون کے ٹھہرے ہوئے دریا ملے

مدتوں جاگی ہوئی آنکھوں کو دیکھا رو پڑے

احتراماً زندگی کو منہ لگانا ہی پڑا

ورنہ ہم اور زندگی کا زہر توبہ کیجیے

اپنے کاندھوں پر لیے اپنی کئی شخصیتیں

رات بھر آنکھوں کے جنگل میں بھٹکتے ہی رہے

Friday, 19 August 2022

شور سے بچ کر سہما سہما بیٹھا ہے چپ چاپ

 شور سے بچ کر سہما سہما بیٹھا ہے چپ چاپ 

ہنگاموں کا بانی دیکھو، کیسا ہے چپ چاپ

اپنے من کے پاگل پن کو اور کہاں لے جائیں 

دور دور تک ریت کا صحرا لیٹا ہے چپ چاپ

انگ انگ میں لمس کی خوشبو پینگیں لیتی ہے 

انگ انگ میں جیسے کوئی بیٹھا ہے چپ چاپ