Sunday, 11 September 2022

اندیشوں کا زہر پیا ہے

 اندیشوں کا زہر پیا ہے

مشکل سے جینا سیکھا ہے

وقت نے ایسا غم بخشا ہے

صحراؤں میں جی لگتا ہے

دامن دامن خون کے دھبے

آخر کس کا قتل ہوا ہے؟

آج کلب کے دروازے پر

چپراسی خاموش کھڑا ہے

دیوانوں کی بات نہ مانو

لیکن سن لینے میں کیا ہے

اب تو خود اپنے چہرے پر

غیروں کا دھوکا ہوتا ہے

دھیرے دھیرے جیسے کوئی

میرے وجود کو چاٹ رہا ہے


انتخاب سید

No comments:

Post a Comment