Showing posts with label افضل گوہر. Show all posts
Showing posts with label افضل گوہر. Show all posts

Wednesday, 15 March 2023

کسی سے کس لیے ہم شکوۂ خدا کریں گے

 کسی سے کس لیے ہم شکوۂ خدا کریں گے

تُو جا رہا ہے تو تیرے لیے دعا کریں گے

مداریوں کے تصرف میں آ گیا ہے ہجوم

کسی پرانے تماشے کو پھر نیا کریں گے

یہ بار بار محبت جتانے والے لوگ

لگے گی آگ تو دامن سے بھی ہوا کریں گے

Sunday, 17 April 2022

اپنی موجوں میں جو گرداب نہیں لا سکتے

 اپنی موجوں میں جو گرداب نہیں لا سکتے

ایسے دریا، کبھی سیلاب نہیں لا سکتے

ایک سجدہ کہیں کر جائیں گے بخشش کیلئے

ہم اگر منبر و محراب نہیں لا سکتے

تم بھی مٹی کے کھلونوں سے گزارہ کر لو

ہم تمہارے لیے مہتاب نہیں لا سکتے

Wednesday, 21 July 2021

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

 ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا

چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں

شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا

کب تلک قید رکھوں آنکھ میں بینائی کو

صرف خوابوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا

Sunday, 17 January 2021

آئی تھی اس طرف جو ہوا کون لے گیا

 آئی تھی اس طرف جو ہوا کون لے گیا؟

خالی پڑا ہے طاق، دِیا🪔 کون لے گیا

دشمن عقب میں آ بھی گیا اور ابھی تلک

تم کو پتہ نہیں  ہے عصا کون لے گیا?

اس شہر میں تو کوئی سلیمان بھی نہیں

میں کیا بتاؤں؟ تختِ سبا کون لے گیا

Friday, 23 October 2020

اس تیرگی میں چاند سمجھ رات کا مجھے

 اس تیرگی میں چاند سمجھ رات کا مجھے

میں آخری چراغ ہوں تُو مت بجھا مجھے

سارا کمال تو تِری کوزہ گری کا ہے

ورنہ زمیں کی خاک سے بننا تھا کیا مجھے

بس اک قدم ہی گھر سے نکلنے کی دیر تھی

پھر لے گیا کہیں سے کہیں راستہ مجھے

Saturday, 6 February 2016

ورنہ رکنا تھا کہاں ہم نے ترے گاؤں میں

ورنہ رکنا تھا کہاں ہم نے تِرے گاؤں میں
پیڑ نے کھینچ لیا خود ہی ہمیں چھاؤں میں
وہ کسی روز سمندر بھی بنا ہی لے گا
جو ملا سکتا ہو دریاؤں کو دریاؤں میں
میں تو افلاک میں پرواز کِیا کرتا ہوں
تیری دھرتی تو بہت کم ہے مِرے پاؤں میں

نہ جانے کیسی مری جاں میں آگ جلتی ہے

نہ جانے کیسی مِری جاں میں آگ جلتی ہے
کہ سانس لوں تو گریباں میں آگ جلتی ہے
دکھا رہا ہے مجھے کیوں کسی چراغ کی لَو
ابھی تو دِیدۂ حیراں میں آگ جلتی ہے
سنبھال رکھا ہے کیا کسی کا غم میں نے
کہ اشک اشک سے مِژگاں میں آگ جلتی ہے

گلہ گزار نہ ہو گر ہوا نہيں آتی

گلہ گزار نہ ہو، گر ہوا نہيں آتی
زميں ہر ايک جگہ زيرِ پا نہيں آتی
اگر زميں سے ہميں رزق مل نہيں سکتا
تو کيوں فلک سے ہماری غذا نہيں آتی
تجھے ميں بھیج تو سکتا ہوں دھوپ ميں چھاؤں
مگر بدن پہ یہ پوری قبا نہيں آتی

تھک گيا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے

منقبت

تھک گيا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے
کون تيری طرح نيزے پہ سفر کرتا ہے
آج بھی ميرے تعاقب ميں ہے اک ايسا يزيد
پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے
کربلا! اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا
خون ايسا ہے کہ ذرات کو زر کرتا ہے

Wednesday, 3 February 2016

دشمنی ميں کچھ نہ کچھ تکرار کر سکتا ہوں ميں

دشمنی ميں کچھ نہ کچھ تکرار کر سکتا ہوں ميں
سامنے مت آ، کہ تجھ پہ وار کر سکتا ہوں ميں
يہ تو يونہی ايک دريا ميرے پیچھے آ گيا
ورنہ صحرا کو اکيلے پار کر سکتا ہوں ميں
کيوں دکھاتا ہے مجھے تُو دوسری دنيا کے خواب
آدمی ہوں،۔ آدمی سے پيار کر سکتا ہوں ميں

اچھا ہے کسی اور نظارے سے جڑی ہے

اچھا ہے کسی اور نظارے سے جڑی ہے
دنیا کی طلب یوں بھی خسارے سے جڑی ہے
اس بار کوئی اور تماشا ہے گلی میں
اک آنکھ جو کھڑکی کے اشارے سے جڑی ہے
میں اس لیے دنیا پر بھروسا نہیں کرتا
مٹی کی یہ دیوار بھی گارے سے جڑی ہے

اسی لیے تو بہت تلخ ہے زباں میری

اسی لیے تو بہت تلخ ہے زباں میری
کہ بات سنتا نہیں ہے تیرا جہاں میری
میں اپنے پاؤں پہ چلنا ہی بھول گیا ہوں
زمیں کھینچتا ہے جب سے آسماں میری
ذرا سا بات کا لہجہ بدل گیا ہے تو کیا
نئی نہیں ہے تیرے واسطے زباں میری

Saturday, 15 June 2013

وہ تھکاوٹ ہے کہ سب لوگ ہیں پتھرائے ہوئے

وہ تھکاوٹ ہے کہ سب لوگ ہیں پتھرائے ہوئے
 کہاں جاتے ہیں بتا راستے بَل کھائے ہوئے
 آپ اک بار محبت سے  پکاریں تو سہی
 ہم تو قبروں سے بھی اُٹھ آئیں گے دفنائے ہوئے
 ہار جانا تو مقدر میں لکھا تھا، لیکن
 ہار گردن سے اُتارے گئے پہنائے ہوئے

Sunday, 21 April 2013

تھک گیا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امامِ عالی مقام

تھک گیا، جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے
کون تیری طرح نیزے پہ سفر کرتا ہے
آج بھی میرے تعاقب میں ہے اک ایسا یزید
پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے
کربلا اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا
خون ایسا ھے کہ ذرات کو زَر کرتا ہے

سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے

سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے
اس بار مجھے خُود سے شناسائی کا ڈر ہے
لے آیا مِرا عشق مجھے ایسی گلی میں
آوازہ لگاتا ہوں تو رُسوائی کا ڈر ہے
دُشمن سے لڑائی کوئی آسان نہیں ہے
وہ ساتھ نہ آئے جسے پسپائی کا ڈر ہے

ہم کو تو وہ ملا ہے جو تیری عطا نہیں

ہم کو تو وہ مِلا ہے جو تیری عطا نہیں
پتّے ادھر اڑے ہیں جدھر کی ہَوا نہیں
ہم لوگ تو ہیں قید میں ایسے مکان کی
جس کا کوئی کواڑ گلی میں کھلا نہیں
پہلے تو شاخ شاخ پر تھے آشیاں بہت
اب حال یہ ہے پیڑ پہ پتّا رپا نہیں

یوں سرسری نہ غم سے گزرنے کی بات کر

یوں سرسری نہ غم سے گزرنے کی بات کر
اے پھول! اپنے رنگ بکھرنے کی بات کر
بے برگ و بار دھوپ سے جھلسا ہوا ہوں میں
سائے سمیت مجھ میں اترنے کی بات کر
سورج شکار کرنے کی عادت نہیں مجھے
مجھ سے نہ دھوپ چھاؤں کترنے کی بات کر

مرے مزاج کا غصہ گیا نہیں مجھ سے

مِرے مزاج کا غصہ گیا نہیں مجھ سے
کہ یہ الاؤ کسی دن بُجھا نہیں مجھ سے
تماشا دیکھنے والوں سے شرمسار ہوں میں
بنا رہا تھا تماشا، بنا نہیں مجھ سے
میں تیری خاک کے سب بھید بھاؤ جانتا ہوں
یہ چاک اور یہ کوزہ نیا نہیں مجھ سے