کسی سے کس لیے ہم شکوۂ خدا کریں گے
تُو جا رہا ہے تو تیرے لیے دعا کریں گے
مداریوں کے تصرف میں آ گیا ہے ہجوم
کسی پرانے تماشے کو پھر نیا کریں گے
یہ بار بار محبت جتانے والے لوگ
لگے گی آگ تو دامن سے بھی ہوا کریں گے
کسی سے کس لیے ہم شکوۂ خدا کریں گے
تُو جا رہا ہے تو تیرے لیے دعا کریں گے
مداریوں کے تصرف میں آ گیا ہے ہجوم
کسی پرانے تماشے کو پھر نیا کریں گے
یہ بار بار محبت جتانے والے لوگ
لگے گی آگ تو دامن سے بھی ہوا کریں گے
اپنی موجوں میں جو گرداب نہیں لا سکتے
ایسے دریا، کبھی سیلاب نہیں لا سکتے
ایک سجدہ کہیں کر جائیں گے بخشش کیلئے
ہم اگر منبر و محراب نہیں لا سکتے
تم بھی مٹی کے کھلونوں سے گزارہ کر لو
ہم تمہارے لیے مہتاب نہیں لا سکتے
ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا
ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا
چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں
شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا
کب تلک قید رکھوں آنکھ میں بینائی کو
صرف خوابوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا
آئی تھی اس طرف جو ہوا کون لے گیا؟
خالی پڑا ہے طاق، دِیا🪔 کون لے گیا
دشمن عقب میں آ بھی گیا اور ابھی تلک
تم کو پتہ نہیں ہے عصا کون لے گیا?
اس شہر میں تو کوئی سلیمان بھی نہیں
میں کیا بتاؤں؟ تختِ سبا کون لے گیا
اس تیرگی میں چاند سمجھ رات کا مجھے
میں آخری چراغ ہوں تُو مت بجھا مجھے
سارا کمال تو تِری کوزہ گری کا ہے
ورنہ زمیں کی خاک سے بننا تھا کیا مجھے
بس اک قدم ہی گھر سے نکلنے کی دیر تھی
پھر لے گیا کہیں سے کہیں راستہ مجھے