اپنی موجوں میں جو گرداب نہیں لا سکتے
ایسے دریا، کبھی سیلاب نہیں لا سکتے
ایک سجدہ کہیں کر جائیں گے بخشش کیلئے
ہم اگر منبر و محراب نہیں لا سکتے
تم بھی مٹی کے کھلونوں سے گزارہ کر لو
ہم تمہارے لیے مہتاب نہیں لا سکتے
تم تو اِس شہر کے مالک ہو تمہارا کیا ہے
ہم طرفداری کو احباب نہیں لا سکتے
شہر لٹ جانے کا ڈر ایسا ہے افضل گوہر
لوگ آنکھوں میں زرِ خواب نہیں لا سکتے
افضل گوہر
No comments:
Post a Comment