Sunday, 17 April 2022

ذرا چاند کے نکلنے تک

 ذرا چاند کے نکلنے تک

دھوپ کا صحرا ڈھلنے تک

خزاں کے ناز اٹھائے دل

موتیے کے پھول کھلنے تک

کچھ دیر تو ٹھہرو اجنبی

یہ عمر رواں گزرنے تک

دل اوج کمال دید چاہے

دم آخر کے نکلنے تک

رات کالی مر ہی جائے گی

مرا سیم تن پگھلنے تک

بس جنوں کے سلسلے ہیں

فاری انالحق کہنے تک


فاریہ حمید

No comments:

Post a Comment