عجب خمار تِری یاد کی شراب میں ہے
کہ یہ قرار بھی اب حدِ اضطراب میں ہے
بگڑتی بنتی ہے شب بھر وہ دیدہ و دل میں
جو ایک شکل دل و دیدۂ خراب میں ہے
وہ ابر تھا کہ نکل ہی نہیں سکی تھی وہ کل
جو دھوپ پھیلی ہوئی آج میرے خواب میں ہے
بچا کے رکھتا ہے ہر جمع و خرچ سے مجھے
وہ ایک دستِ دعا جو مِرے حساب میں ہے
کسے بتائیں محبت ہے جو ہے پیشِ نظر
کسے دکھائیں جو وحشت ابھی حجاب میں ہے
کامران نفیس
No comments:
Post a Comment